پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ فرشتہ مہمند کیس میں ریاست کا کردار قابل مذمت ہے اور اپنی آئینی ذمہ داری سے غافل وزیر داخلہ کو بھی کیس میں شامل تفتیش کیا جانا چاہئے، اسلام آباد میں معصوم بچی فرشتہ مہمند کے بہیمانہ قتل کے خلاف جاری دھرنے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم کسی ادارے کے خلاف نہیں البتہ معاملے کو غلط رنگ دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ریاست اور پولیس واقعے کی ذمہ دار ہے اور اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی اہم ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت سوئی ہوئی ہے،مسلط وزیر اعظم نے اپنی رہائشگاہ کے قریب واقعہ رونما ہونے کے باوجود اس طرف کا رخ نہیں کیا، ریاست مدینہ میں حوا کی بیٹی محفوظ نہیں اور حکمران عیاشیوں میں مصروف ہیں،انہوں نے واقعہ کو سامنے لانے پر میڈیا کا شکریہ ادا کیا لیکن اس معاملے پر غلط رپورٹنگ کی بھی مذمت کی، انہوں نے کہا کہ بعض نجی چینل اسٹیبلشمنٹ کی خوشامد کیلئے واقعے کو غلط رنگ دے رہے ہیں فرشتہ اور اس کے والد کو افغانی کہا جا رہا ہے، کیا ریاست میں افغان بچیوں کی عزت تار تار کرنے اور انہیں قتل کرنے کا لائسنس دیا گیا ہے؟ اس قسم کی رپورٹنگ سے مقتدر قوتوں کو خوش کرنے کی پالیسی انسانیت سے غداری ہے،میاں افتخار حسین نے واقعے میں معطل کئے جانے والے ایس ایط او کی ضمانت منظوری پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم نے ہمیشہ عدالتوں کا حترام کیا ہے تاہم فیصلہ ایسا آنا چاہئے تھا جس سے لواحقین کے زخموں پر مرہم رکھنے میں مدد ملتی،انہوں نے کہا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ ظمانت پانے والا ایس ایچ او تحقیقات پر اثر انداز نہ ہو، انہوں نے کہا کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان سمیت پورے ملک کی بیٹیاں ہماری بیٹیاں ہیں، بیٹیوں کی عزت سانجھی ہوتی ہے،اس میں تعصب کی کوئی گنجائش نہیں، انہوں نے بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اے این پی کی کوششوں کی وجہ سے فرشتہ قتل کیس کی ایف آئی آر درج ہوئی، ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں اور ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے،انہوں نے کہا کہ واقعہ انسانی مسئلہ ہے اور اس پر پوائنٹ سکورنگ نہیں ہونی چاہئے،انہوں نے کہا کہ ہم نے پنجاب کی بیٹی زینب کیلئے آواز اٹھائی،عدلیہ کو زینب واقعے کی طرح فرشتہ واقعہ پر بھی سوموٹو ایکشن لینا چاہئے تھا لیکن پختون بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات کو دبایا جاتا ہے۔