پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی الیکشن کمیشن کے چیئرمین میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ رازد شہید کے قاتل دہشت گرد کو بچانے کیلءئے سرکاری مشینری بھی حرکت میں ہے اور مجھے کیس واپس لینے کیلئے دھمکیوں کے ذریعے ڈرایا دھمکیا جا رہا ہے،،مجرم کو پھانسی ملنے تک کوششیں جاری رکھیں گے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور کے مقامی ہوٹل میں مرکزی الیکشن کمیشن کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا،تنظیم سازی کے حوالے سے نیڈیا کو آگاہ کرنے کے بعد انہوں نے اپنے بیٹے میاں راشد شہید کے قاتل کو تحفظ فراہم کرنے کی حکومتی سازش کی مذمت کی اور کہا کہ پی ٹی آئی حکومت دہشت گردوں کی ساتھی ہے جس کی وجہ سے حکمران کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی سے کترا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ نو سال قبل جس دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا وہ صحت جرم کرنے اور شناخت ہونے کے باوجود آج تک زندہ ہے ،جو اس ملک کی بدقسمتی ہے ، انہوں نے کہا کہ آج اس کا کیس لڑنے والے اور اس کی پشت پر موجود خفیہ ہاتھ بھی میرے بیٹے کے قتل میں ملوث ہیں لہٰذا دہشت گرد کے سہولت کاروں کو بھی گرفتار کر کے انہیں پھانسی دی جائے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ مجھے دہشت گردی کے خلاف قربانیوں اور بیٹے کی شہادت پر ہلال امتیاز سے نوازا گیا لیکن اب دہشت گرد کی رہائی اسی ہلال امتیاز کی بے حرمتی و بے عزتی ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے دھمکیوں کے ذریعے کیس واپس لینے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے لیکن اب جان کی پرواہ کئے بغیر مقدمہ اس وقت تک لڑوں گا جب تک مجرم کو پھانسی پر نہیں لٹکایا جاتا۔انہوں نے مردان کی انسداد دہشت گردی میں پیشی پر آنے والے تمام پارٹی قائدین اور کارکنوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں الیکشن کمیشن کے اجلاس کی وجہ سے عدالت میں حاضر نہیں ہو سکا،انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمدنہ ہونے تک دہشت گرد اسی طرح رہا ہوتے جائیں گیجو ہماری آنے والی نسلوں کیلئے خطرہ ہیں۔