پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے وزیرستان واقعہ کے بعد صورتحال میں مذید بگاڑ پیدا کرنے اور واقعہ کی کوریج کرنے والے بنوں سے نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انسانیت سوز واقعہ میں بے گناہ معصوم پختونوں کی شہادتیں 40زخمی اور تاحال علاقے میں کرفیو کا نفاذ ظلم کی سیاہ رات کو طول دینے کی کوششیں ہیں، انہوں نے کہا کہ ریاستی جبر کے ذریعے مظلوم کی آواز کو نہیں دبایا جا سکتا اور حقوق کی سوچ ختم نہیں کی جا سکتی،انہوں نے کہا کہ ریاست کو ماں کا کردار ادا کرتے ہوئے شہریوں کو گلے سے لگانا چاہئے، سردار حسین بابک نے کہا کہ ایک جانب حقوق مانگنے والوں پر ظلم کیا جاتا ہے تو دوسری جانب انسانیر سوز مظالم کو آشکارا کرنے والے میڈیا پر قدغن لگائی جا رہی ہے،انہوں نے کہا کہ شہریوں کو گولی مار کر الزام بھی انہی پر تھوپنا الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے کے مصداق ہے، ملک میں جنگل کا قانون ہے، اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس والے قانون سے معاملات سدھار کی بجائے بگاڑ کی جانب جائیں گے، انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہونی چاہئے، جبکہ حکومت اطوار سے پختونوں میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے، انہوں نے واقعے کے ھوالے سے قومی اسمبلی میں پختوں حکومتی وزیر کی تقریر پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مذکورہ وزیر نے پختونوں کے سر شرم سے جھکا دیئے، اقتدار کی خاطر اپنے مصنوعی آقاؤں کو خوش کرنے والوں نے بربریت کے واقعے کو توڑ مروڑ کر اسمبلی میں پیش کیا،انہوں نے کہا کہ ہم اب پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ پختون وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کیوں گمشدہ ہیں، اسمبلی میں پختون ممبران کی سب سے زیادہ تعداد نے سانحہ وزیرستان پر ہونٹ کیوں سی رکھے ہیں،سردار بابک نے کہا کہ تاریخ قومی مجرموں کو معاف نہیں کرے گی، فتح حق کی ہوگی انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ عدم تشدد کے فلسفہ پر کاربند رہیں اور سوشل میڈیا پر مدلل،شائستہ انداز میں اپنے حقوق کی جنگ تمام اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے جاری رکھیں۔