پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں پنجاب کے متعارف کردہ جعلی اور مسترد ادارہ NTS ابھی تک صوبے کے معصوم اور غریب نوجوانوں سے 55 ارب روپیہ اکھٹا کر چکا ہے،گذشتہ دور حکومت میں تبدیلی سرکار نے ”ففٹی ففٹی“ فارمولے کے تحت تعلیمی اداروں سے اساتذہ کی بھرتی میں ٹسٹنگ ادارے کو شامل کیا جو تاحال غریب نوجوانوں سے اربوں روپے بٹورنے میں مصروف ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تعلیمی قابلیت کے 100 جبکہ ٹسٹ کے لئے بھی 100 نمبر مختص کئے گئے ہیں، یہ دنیا کا کونسا قانون ہے؟ اپنے صوبے کے ٹسٹنگ ادارہ ایٹا کی موجودگی میں پنجاب کے ایک جعلی ادارے کو صوبے کے غریب عوام کے اربوں روپیہ سے نوازنا اور پھر نیب کی خاموشی جانبداری کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے صوبے کے معروف و مقبول ادارہ ایٹا کو نظر انداز کیا اور کمیشن کی بنیاد پرپنجاب کے بلیک لسٹ ادارے کو اربوں سے نوازا جبکہ اب آدھے صوبے کو دوسرے ٹسٹنگ ادارے FTS کے حوالے کردیا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے وسائل اور عام آدمی کو طرح طرح سے لوٹنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں، ہم نے بار بار آواز اٹھائی، کرپشن کے بڑے بڑے سکینڈلز سے عام لوگ تک واقف ہیں لیکن نیب نے چپ سادھ لی ہوئی ہے، سردارحسین بابک نے مزید کہا کہ صوبائی صدر کے حکم کے مطابق 24جون کو نیب خیبرپختونخوا کے دفتر کے سامنے عظیم الشان مظاہرہ ہوگا۔ اس وقت احتسابی ادارے کے ساکھ کو مکمل ہزیمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیب صوبائی حکومت کو فریق بنا کر NTS کے ذریعے 55 ارب روپیہ اکھٹا کرنے کی تحقیقات کرے، انہوں نے کہا کہ اس غریب صوبے کے نوجوانوں کے ساتھ روزگار کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے ان سے 55ارب روپیہ بٹور لیا گیا۔ سردارحسین بابک نے الزام عائد کیا کہ ٹسٹ کے اتنے زیادہ نمبر رکھنا،پرائیویٹ ٹسٹنگ ادارے کی خدمات حاصل کرنا اور ان کو اپنا صوبہ ٹھیکے پر دینا کرپشن کی بہت بڑی مثال ہے۔