عوامی نیشنل پارٹی نے وزیرستان خڑ کمر چیک پوسٹ پر 13نہتے بے گناہ قبائلیوں پر فائرنگ کے واقعے کے خلاف صوبائی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرا دی، تحریک التوا اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے جمع کرائی اور اس میں سپیکر کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے کہ وزیرستان کے علاقے میں انسانیت سوز واقعہ کے دوران 13نہتے پر امن مظاہرین پر گولیوں کی بارش کی گئی ہے اور ان پر بدترین تشدد کر کے شہید کر دیا گیا،تحریک میں مزید کہا گیا ہے کہ علاقے میں کرفیو اور دفعہ144نافذ ہے جس کی وجہ سے وزیرستان کے غریب عوام کو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، سردار حسین بابک نے کہا کہ علاقے میں خوراک کی شدید قلت محسوس ہو رہی ہے اور رابطے منقطع ہونے کی وجہ سے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے،انہوں نے کہا کہ نہتے اور پرامن مظاہرین پر فائرنگ،انہیں گرفتار کرنا اور پھر انہی کو مورو الزام ٹہراناانتہائی زیادتی ہے،انہوں نے کہا کہ بے حسی کا یہ عالم ہے کہ مرکزی و صوبائی وزراء کو واقعے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کا کام سپرد کیا گیا ہے،اور وزراء موصوف حقیقت کو توڑ مروڑ کر شہدا کے خون کا مذاق اڑاتے ہیں،انہوں نے کہا کہ سپیکر کی توجہ اس جانب بھی دلائی کہ ریاست کو ماں کا کردار ادا کرنا ہو گا، ماظ اپنے بچوں کو سینے سے لگاتی ہے ان پر گولیاں نہیں چلاتی،انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرین کو کچلنا، ان کی آوازوں کو دبانااور اپنے حقوق کیلئے اٹھنے والی تحریکوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا،انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت گرفتار کئے جانے والے مظاہرین کو فوری طور پر رہا کرنا چاہئے۔