پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ڈائریکٹر آرکیالوجی کی گرفتاری پر واویلا کرنے والے کپتان اور خیبر پختونخوا کے بزدار نے پورے کا پورا ڈی جی نیب ہی تبدیل کردیا ہے،سیلیکٹڈڈ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے بیانات کے بعد بھی جب ڈی جی نیب خیبر پختونخوا نے اُن کی بات نہ مانی تو اُنہیں تبدیل کردیا گیا ۔کیا ملک میں احتساب کے عمل نے ایسا ہی چلنا ہے،ولی باغ چارسدہ میں تحصیل چارسدہ کے نومنتخب کابینہ سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ ملک میں یکطرفہ احتساب کا عمل خطرناک ہے،اُن لوگوں کو حکومت اور اداروں کی جانب سے گلے لگایا جاتا ہے جو کپتان کے حامی ہو اور جو کپتان کے مخالفین کو طرح طرح کے القابات سے نوازا جارہا ہے،اے این پی کا روز اول سے یہی مطالبہ رہا ہے کہ ملک میں احتساب کا عمل بلا تفریق ہو،جب تک اپوزیشن اور حکومت کیلئے احتساب کا طریقہ کار ایک جیسا نہیں اپنایا جاتا تب تک ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے دعوے محض دعوے ہی ثابت ہونگے۔ایمل ولی خان نے کہا پاکستان میں اُن لوگوں کو بدنام کیا جاتا ہے جو لوگ اس دھرتی کیلئے کچھ اچھا کرنے کا سوچ رکھتے ہو،اے این پی پر دوران حکومت طرح طرح کے الزامات لگائے گئے لیکن چھ سال گزرنے کے باوجود بھی کپتان اے این پی کے ایک ایم این اے ،ایم پی اے یا منتخب نمائندے پر کچھ ثابت نہ کرسکا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اے این پی کا دامن صاف ہے اور وہ لوگ آج منہ چھپانے کے قابل نہیں رہے ہیں جو اے این پر طرح طرح کے الزامات عائد کررہے تھے۔ایمل ولی خان نے اپنے گفتگو میں چیئرمین نیب سے مطالبہ کیا کہ ڈی جی نیب خیبر پختونخوا کے تبادلے کے محرکات سامنے لائے جائے،ایک سرکاری افسر کیلئے احتساب کا پورا نظام داؤ پر لگانا کسی صورت قابل قبول نہیں ہوسکتا،اے این پی ایسی صورتحال پر کبھی خاموش نہیں رہے گی۔