پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ کمزور خارجہ پالیسی کی وجہ سے سعودی عرب اور چین دونوں بادل ناخواستہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں،سی پیک میں چین سعودی عرب کے شمولیت پر جب ناراض ہوگیا تو سعودی عرب کو آئل ریفائنری کا ٹھیکہ دیا گیا ،باچا خان مرکز پشاور میں باچا خان ٹرسٹ کے زیر اہتمام عظیم پشتو شاعر غنی خان کی برسی کے حوالے سے منعقدہ مشاعرے سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ کسی میدان میں بھی غنی کے خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ،شاعری اور مصوری کے ساتھ ساتھ غنی خان نے بحیثیت سیاستدان اور پارلیمنٹرین بھی تاریخی کردار ادا کیا ،روس کے خاتمے کی پیشنگوئی غنی خان نے تقسیم ہند سے پہلے کردی تھی ،اس کے ساتھ ساتھ غنی خان نے اپنی شاعری میں پختونوں کی جو تصویر پیش کی تھی آج پختون اُسی درد سے گزر رہے ہیں،موجودہ سیاسی صورتحال پر بات چیت کرتے ہوئے میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ کپتان دعوے کررہا ہے کہ اُس نے پاکستان کی خارجہ پالیسی آزاد کرلی ہے جس کی جھلک ہمیں بھارت،افغانستان ،چین اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی صورت میں ملتی ہے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران خان کی سیلیکٹڈڈ حکومت نہ مارشل لاء ہے اور نہ ہی جمہوریت،عمران خان مودی سے بات کرنے کو تیار ہے لیکن پاکستان کے اندر وہ زرداری اور نواز شریف کے ساتھ ہاتھ ملانے سے بھی کتراتے ہیں ۔پی ٹی آئی خود پاکستان کی سب سے بڑی چوروں اور کرپٹ سیاسی خانہ بدوشوں کی پارٹی ہے لیکن اُس کے باوجود بھی دوسری سیاسی پارٹیوں کو مختلف القابات سے نواز رہی ہے ،ملک کی معیشت تباہی کے دہانے کھڑی ہے،عوام سے مہنگائی کی وجہ سے چیخیں نکالنے والا وزیر خزانہ کہتا ہے کہ عوام مزید چیخیں گے،انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اگر کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی نہیں کی تو ملک گرے سے بلیک لسٹ میں چلا جائیگا جس کی تما م تر ذمہ داری عمران خان کی حکومت پر عائد ہوگی۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ بریگیڈیئر (ر) اسد منیر کی خودکشی اور مبینہ خط کا بھی نوٹس لیا جائے کیونکہ پاکستان میں نیب کے ہاتھوں شریف النفس لوگوں کی بے عزتی کا سلسلہ مزید بند ہوجانا چاہیئے۔یاد رہے کہ غنی خان کی یاد میں منعقدہ مشاعرہ ممتاز شاعر عزیز مانیروال کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں صوبہ بھر کے شاعروں عبد الرحیم روغانے،حنیف قیس،نیازک خان،سلمان یوسفزئی،مشال غنی خان،اسیر منگل،اقبال شاکر،جلال خلیل،سید شہزاد باچہ،صابر شاہ صابر،روشن کلیم سرہندی،شمس بونیری،شاہ نواز باقر،محمد گل منصور،ظفر علی ناز،کاشف شمال محمد زئی اور دیگر نے اپنے اپنے کلام میں غنی خان کو منظوم اور منثور خراج عقیدت پیش کی۔