پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی صوبہ خیبرپختونخوا کے جنرل سیکرٹری وچیئرمین صوبائی الیکشن کمیشن سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ اے این پی میں عہدیداروں کا چناؤ سلیکشن سے نہیں بلکہ الیکشن کے ذریعے ہوتاہے ، اے این پی اور دیگر سیاسی جماعتوں میں فرق یہ ہے کہ اے این پی کے اندر باقاعدہ انتخابات ہوتے ہیں، جبکہ دیگرجماعتوں میں اوپرسے نامزدگی کی جاتی ہے، انتخابی عمل کو گروپ بندی کانام دیناغلط ہے یہ مقابلہ ہے جو جمہوری عمل کہلاتاہے ، ان خیالات کااظہار انہوں نے دورہ سوات کے موقع پرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر سوات کی ضلعی کابینہ کیلئے الیکشن کا انعقاد کیا گیا جس میں ضلعی صدر محمد ایوب خان اشاڑے اور ،،، جنرل سیکرٹری شاہی دوران خان منتخب کر لئے گئے، دیگر کابینہ ممبران میں سینئر نائب صدر خواجہ محمد خان ،نائب صدر اول ممتاز خان ،نائب صدر دوم سمیع اللہ ، ایڈیشنل جنرل سیکرٹری عبدالمالک، ڈپٹی جنرل سیکرٹری اکرام خان سیکرٹری مالیات محمد نواب، سیکرٹری ثقافت امان الدین سیکرٹری اقلیتی امور امر جیت ملہوترا اور عبدالصبور سیکرٹری اطلاعات منتخب کر لئے گئے،سردار حسین بابک نے نو منتخب کابینہ کو مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ نئی منتخب کابینہ پارٹی کی فعالیت اور عوامی خدمت کیلئے ہمہ وقت تیار رہے گی ، انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ایک جمہوری جماعت ہے جس میں عہدیداروں کے انتخاب کے لئے تمام ترجمہوری تقاضے پورے کئے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ اے این پی اگرجمہوریت کے لئے جدوجہد کررہی ہے تو اس میں جمہوریت موجود ہے دیگرسیاسی جماعتوں کوبھی جمہوری سوچ لیکرکام کرناچاہئے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانے کی بدترین مثال قائم کی جا رہی ہے اور اس کیلئے نیب کو استعمال کیا جا رہا ہے، الیکشن سے قبل عوام کو سبز باغ دکھانے والے وزیر اعظم کو آج خود مہنگائی کے اعلانات کیوں کرنا پڑ رہے ہیں ،حکومت چندوں پر نہیں چل سکتی ، انہوں نے کہا کہ لوگوں سے روزگار اور گھر دینے دعوے ہوا ہو چکے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی اور گیس کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر آ چکی ہیں اور اب عنقریب روٹی بھی غریب عوام کی دسترس سے دور جانے والی ہے، انہوں نے کہا کہ سوات سمیت صوبہ خیبرپختونخوا میں 10اضلاع میں انٹراپارٹی الیکشن کاعمل عہدیداروں کے انتخاب کااختیارکارکنوں کودیاگیاہے۔ اورکارکن اپنے مرضی کے مطابق عہدیداروں کومنتخب کرتے ہیں جبکہ اسمبلی کے لئے کسی بھی امیدوار کی نامزدگی کااختیاربھی ان کارکنوں کے پاس ہے انہوں نے کہا کہ اے این پی عہدیداروں کا چناؤ جمہوری تقاضے پورے کرتے ہوئے کرتی ہے ۔