عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ نیب اندھا ہے اور حکومت کی پشت پر اسٹیبلشمنٹ کی موجودگی کی وجہ سے پی ٹی آئی کے کرپٹ لیڈروں پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہیں کر سکتا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے تہکال پشاور میں ارباب سکندر خان خلیل شہید کی 37ویں برسی کے موقع پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں ارباب سکندر خان خلیل شہید کی سیاسی و ادبی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا ، انہوں نے کہا کہ انہیں جس مذہبی جنونی اور شدت پسند نے کسی اورکے اشارے پر شہید کیا تھا اور شاید اس قوت نے اس وقت یہ سوچا ہوگا کہ انہیں شہید کرکے ان کی سیاسی پارٹی اپنی موت آپ مرجائے گی،مگر ان قوتوں کی اس قسم کی سوچ بلکل خام تھی ، ارباب سکندرخان خلیل محض ایک فرد نہیں تھے بلکہ وہ ایک سوچ اور ایک تحریک کا نام تھے،بطور ادیب اور دانشور انہوں نے اپنی زندگی میں اپنی مادری زبان سمیت انگریزی میں بھی کئی کتابیں لکھیں کئی تحقیقی مضامین لکھے اور انہی کتابوں اور مضامین میں ارباب سکندرخان خلیل کل بھی زندہ تھے اور آج بھی زندہ ہیں،اس کے علاوہ انہوں نے فخرافغان باچاخان اور خان عبدالولی خان کی قیادت میں نیشنل عوامی پارٹی کے جھنڈے تلے اپنی قوم اور اپنی مٹی کی آزادی،ترقی اور خوشحالی کے لیے جو کردار ادا کیا تھا،ملک میں جمہوریت، معاشی انصاف،صوبائی خودمحتاری اور مظلوم ومحکوم طبقات کے حقوق کے لیے جو قربانیاں دی تھیں انہی کے طفیل ارباب سکندرخان خلیل کو پختونوں کی قومی اور ادبی تاریخ میں رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔سیاسی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک میں امتیازی احتساب جاری ہے جس کی زد میں صرف سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ، ملک کے تمام کرپٹ ترین لوگ پی ٹی آئی کی چھتری تلے آ کر ڈرائی کلین ہو چکے ہیں اور نیب پاکستان کی سب سے بڑی کرپٹ جماعت تحریک انصاف پر صرف اس لئے ہاتھ نہیں ڈال سکتا کیونکہ اس کی پشت پر اسٹیبلشمنٹ ہے، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے میگا کرپشن سکینڈل نیب کی نظروں سے اوجھل ہیں ، بی آر ٹی پشاور 120ارب سے تجاوز کر چکا ہے لیکن مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا ، انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک ، اور اس وقت کے وزیر سمیت آج کی صوبائی حکومت پر ہاتھ ڈالا جائے تو ساری حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی،انہوں نے کہا کہ ملک اور عوام کی بدقسمتی ہے کہ عمران جیسا شخص ملک پر مسلط کر دیا گیا جو سیاست سے نا بلد ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں موجودہ حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر اس لئے راضی ہوئیں کیونکہ ہم محب وطن ہیں اور یہ ملک کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہم سب کا ہے،فیصل واوڈا کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر عمران کی چاپلوسی میں اس حد تک چلے گئے کہ دین اسلام سے خارج ہو گئے ، انہوں نے کہا کہ اب صرف استعفے سے کام نہیں چلے گا ، فیصل واوڈا کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو سکے،انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان تمام جماعتوں کی متفقہ دستاویز ہے اور اس کا کریڈت حکومت کو کسی صورت نہیں جاتا ، نیپ کی تیاری کے وقت عمران خان اس کا بڑا مخالف تھا،انہوں نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ اور امن کا قیام چاہتے ہیں ، پاکستان ، افغانستان میں امن مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے اور اس میں افغان حکومت کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔