عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے حوالے سے تمام امور حکومتی علم میں ہونے کے باوجود خیبر پختونخوا میں صرف دو تنظیموں کے خلاف کاروائی کر کے خانہ پُری کی جا رہی ہے، حکمران دہشت گردی کے خاتمے میں مخلص ہیں تو ملک بھر میں موجود 75سے زائد کالعدم تنظیموں پر ہاتھ ڈالا جائے اور قوم کو حقیقت سے آگاہ کیا جائے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں75کالعدم تنظیمیں مختلف ناموں سے اپنی کاروائیوں میں مصروف ہیں جن میں36تنظیمیں سوشل میڈیا پر مصروف عمل ہیں اور مختلف ناموں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ بیشتر پارلیمنٹ تک رسائی کیلئے انتخابی عمل میں بھی حصہ لیتی رہیں ،انہوں نے کہا کہ نام نہاد وزیر اعظم ملک کیلئے سیکورٹی رسک بن چکے ہیں، ہر لمحہ احتساب کے دعوے کرنے والا شخص اپنی حمایت کیلئے کالعدم تنظیموں کے ساتھ این آر او کر رہا ہے، ملک میں چھوٹے بڑے پیمانے پر جے آئی ٹی بنادی جاتی ہے لیکن بدقسمتی سے کالعدم تنظیموں کے اثاثوں کی چھان بین ، ان پر پابندی اور دیگر معاملات کے حوالے سے کوئی بھی حکومتی نمائندہ ایک لفظ بول نہیں پا رہا، ایمل ولی خان نے کہا کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت ملک کے سٹیک ہولڈرز کے درمیان باہم اتفاق سے متفقہ دستاویز نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں سامنے آئی جسے اس وقت کی حکومتوں نے مصلحت کی بھینٹ چڑھا دیا ،کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی اسی متفقہ دستاویز کی ایک شق ہے، حکومت میں کوئی ایک شخصیت ایسی نہیں جو سچ بولنے کی جسارت کرے ، حکومتی وزراء اور نمائندے مختلف ویڈیوز میں کالعدم تنظیموں کو سپورٹ کرنے کے دعوے کرتے نظر آتے رہے ہیں اب کالعدم تنظیموں کے حوالے سے کارروائی پر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے؟، انہوں نے کہا کہ یہاں جس انداز میں بین تنظیموں کی مہمان نوازی کی جا رہی ہے وہ کارروائی کے دعوؤں کی نفی ہے،انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو اپنی سمت اور ریکارڈ درست کرنے کی ضرورت ہے اور حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ صوبے میں صرف دو جماعتیں کالعدم نہیں بلکہ ملک بھر میں موجود تمام کالعدم تنظیموں کے دفاتر خیبر پختونخوا میں موجود ہیں ،ایمل ولی خان نے واضح کیا کہ جو لوگ طالبان کیلئے دفاتر کا مطالبہ کرتے رہے وہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جرأت کیسے کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک دہشت گرد تنظیموں کا قلع قمع نہیں کیا جاتا ملک پر خطرات کے بادل منڈلاتے رہیں گے۔