پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ امن کے خواہاں ہیں، خطہ جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا،خطے میں امن کے قیام کے حوالے سے اے این پی روز اول سے اپنے مؤقف پر قائم ہے ، اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاک بھارت موجودہ صورتحال پر پارٹی قائد اسفندیار ولی خان کا بیان پارٹی پالیسی ہے اور اے این پی روز اول سے اپنے اس مؤقف پر قائم ہے کہ خطہ جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا ،انہوں نے کہا کہ ہم باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے کے پیروکار ہیں اور امن کے خواہاں ہیں، اسفندیار ولی خان نے اس دھرتی کا بیٹا ہونے کے ناطے خلوص نیت سے امن کے قیام کیلئے ثالثی کی پیشکش کی ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں جانب سے اس پیشکش پر غور ہونا چاہئے ، میاں افتخار حسین نے انڈین پائلٹ کی رہائی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ بھارت کو بھی اسی طرح کے خیر سگالی کے جذبے کا اظہار کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی ہر حال میں امن چاہتی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ آج پاکستان کی جانب سے جو پالیسی اختیار کی گئی ہے دراصل وہی اے این پی کا موقف پہلے بھی تھا اب بھی ہے اور رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اکیس سیاسی جماعتیں مودی کی پالیسی کی مخالفت کررہی ہیں،اگر نریندر مودی کسی کی بات ماننے کو تیار نہیں تو کم از کم اپنے ملک کی سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں کو فالو کریں،بھارت کی سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی بھی جنگ کے حق میں نہیں ، مودی ہی یہ وضاحت کر سکتے ہیں کہ انہیں کیا ایسی مجبوریاں ہیں جس کیلئے وہ خطے میں جنگ کے خواہاں ہیں،انہوں نے کہا کہ جنگ تباہی کے سوا کچھ نہیں اور اے این پی امن کی خواہاں ہے البتہ ہماری ہزار کوششوں کے باوجود بھی اگر جنگ مسلط کردی گئی تو اے این پی اپنے ملک کے ساتھ کھڑی ہوگی،یہی اے این پی کا موقف ہے۔