پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے نائب صدر اور ملگری ڈاکٹران کے صوبائی ایڈوائزر ثاقب اللہ چمکنی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت گذشتہ چھ سال میں کوئی میگا منصوبہ شروع نہ کرسکی لیکن ان کی آنکھوں میں اے این پی دورحکومت میں بنائے گئے منصوبوں پر ناموں کی تختیاں تبدیل کرنے میں مصروف ہیں۔مردان میڈیکل کمپلکس کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں کالج کے ڈینٹل سیکشن اور پیرامیڈیکل کالج کے ناموں کی تبدیلی مضحکہ خیز ہے۔ اپنے مذمتی بیان میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ “باچاخان میڈیکل کالج” کے نام سے جانا اور پکارا جاتا ہے۔ یہ نام پختون قوم کے عظیم رہنما، خدائی خدمتگار خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کے نام سے منسوب ہے۔ کیا اب بحیثیت پختون قوم کے رہنما ہمارے اکابرین کے نام سے ہم ادارے بھی منسوب نہیں کرسکتے؟ آزادی اور تعلیم کے فروغ کے لئے باچا خان نے ساری عمر جدوجہد کی اور 27 سال سے زائد عرصہ جیلوں میں گزارا۔ انہوں نے مزید کہا کہ باچا خان پختون قوم کے لئے آزادی، تعلیم، خوشحالی اور ترقی چاہتے تھے۔ جب باچا خان کا ارمان پورا ہوگیا اور وقت آگیا کہ ان کو اس دھرتی اور قوم کے خدمت کے سلسلے میں خراج تحسین کے طور پر ایک تعلیمی ادارے کا نام ان سے منسوب کیا جائے تو کچھ لوگوں نے اس عظیم ہستی کے نام کو نکالنے کی کوشش کی۔ ثاقب اللہ چمکنی کا کہنا تھا کہ ہم بحیثیت پختون قوم اس غلط اور گمراہ کن فیصلے کی مذمت کرتے ہیں اور ارباب اختیار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس فیصلے کو جلد سے جلد واپس لیا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ملگری ڈاکٹران اس سلسلے میں بھر پور احتجاج کرے گی اور جلد اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی