پشاور( پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو عدالت کی جانب سے دی جانیوالی سزا درست اور آئین و قانون کے مطابق ہے لیکن فیصلے کا پیرا 66 غیر انسانی ہے،اس سے ہٹ کر فیصلہ جمہوری قوتوں کی جیت ہے،اگر فیلڈ مارشل کو سزا دی جاتی تو یحیٰی خان،ضیاء الحق اور مشرف پھر مارشل لا ء کی جرات نہ کرتے۔ پیرا 66پر تحفظات کے ساتھ ساتھ یہ فیصلہ جمہوری قوتوں کی فتح ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے اسفندیارولی خان نے کہا کہ مشرف کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد جس طرح پی ٹی آئی کے ترجمانوں نے عدلیہ کا مذاق اڑایا اور ٹی وی پر بیٹھ کر فیصلے کی مخالفت کی، ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ضرور ہونی چاہیے۔ عدلیہ نے جو فیصلہ دیا ہے انکے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ حکومت نااہلوں کا مجموعہ ہے، ان میںآرمی چیف کی توسیع کی ایک سمری تک بنانے کی صلاحیت نہیں تھی لیکن میری ذاتی رائے یہ ہے کہ ہر آفیسر کو مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہونا چاہیے۔ اے این پی سربراہ نے ملک میں جاری احتساب پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر بلاامتیاز احتساب ہوتا تو ہم بھی ساتھ کھڑے ہوتے، اس وقت احتساب نہیں بلکہ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا جارہا ہے، اگر بلاامتیاز احتساب کرنا ہے تو بی آر ٹی کے خلاف تیار ریفرنسز پر ابھی تک کیوں کارروائی نہیں کی جارہی؟ یہاں حکم امتناع کا بہانہ کیا گیا تو مالم جبہ اور بلین ٹری سونامی کے خلاف تو کوئی حکم امتناع نہیں، لیکن وہاں بھی حکومتی اراکین کے خلاف نیب خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر عمران خان چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی احتساب کرنا ہے تو آغاز اسفندیارولی خان اور عمران خان سے کرے۔ دونوں کو ٹی وی پروگرام میں بلاکر پوچھا جائے کہ انہیں وراثت میں کیا ملا ہے اور آج کتنے اثاثوں کے مالک ہیں۔اگر ان کے نام یا ان کے اولاد کے نام اپنی وراثت یا حق مہر کے علاوہ کوئی ایک پیسہ بھی ثابت ہوا تو ڈی چوک میں پھانسی دی جائے لیکن عمران خان کو بھی قرآن پر ہاتھ رکھ کر یہ سب کچھ سامنے لانا ہوگا۔عمران خان سے یہ بھی پوچھا جائے کہ علیمہ باجی نے کس طرح مرغبانی سے اربوں کمائے۔ایک سوال کے جواب میں اسفندیارولی خان نے کہا کہ پارٹی ڈسپلن پر کوئی سجمھوتہ نہیں کیا جائیگا چاہے جتنا بھی بڑا آدمی ہو، پارٹی اور تنظیم سے بالاتر نہیں۔پشتون قومی جرگہ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ اس جرگے میں بیٹھنے کی مخالفت کررہے تھے اس لئے یہ جرگہ نہ ہوسکا،پشتونوں کا اتفاق اور تحفظ وقت کی اہم ضرورت بن گئی ہے۔افغانستان سے متعلق سوال کے جواب میں اسفندیارولی خان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو اپنی آزاد اور خودمختار حیثیت ماننا ہوگا۔ خوشحال پاکستان اور خوشحال افغانستان ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اگر غلط فہمیاں ہیں تو دور کرنے ہوں گے کیونکہ اچھے تعلقات کے علاوہ اس خطے کی امن کیلئے دوسرا راستہ نہیں۔افغان امن عمل کی کامیابی سے ہی خطے میں امن کا قیام ممکن ہوسکے گا۔پاکستان اور افغانستان مل بیٹھ کر فیصلہ کریں ،اس فیصلے میں ایران، چین،روس اور امریکا ضامن بنیں،اس کے بعد اگر کوئی فیصلے کے خلاف جائے تو تمام ممالک کو متفقہ طور پر انکی مخالفت کرنی چاہیے۔