پشاور( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ باچاخان کی تحریک قومی تحریک تھی جس میں ترقی پسندکے ساتھ ساتھ ہر مکتبہ فکر کے لوگ موجود تھے، اسی تحریک میں معاشی تقسیم کے ساتھ ساتھ انسانیت کی بنیاد پر روابط استوار کرنے کی بات ہوتی تھی،باچاخان کے ساتھی غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے جو مساوی حقوق اور اقتصادی بنیادوں پر برابری کی بات کرتے تھے،خدائی خدمتگار تحریک بذات خود ایک ترقی پسند، قوم پرست اور انسانیت پرست تحریک تھی جوسماجی انصاف، اقتصادی تقسیم اور مساوی حقوق کے ساتھ ساتھ اس مٹی کی آزادی کی جدوجہد کررہی تھی۔ مرکزی صدر اسفندیارولی خان کی خرابی صحت کی وجہ سے پاکستان مزدور کسان پارٹی کی گولڈن جوبلی تقریب ”جشن ہشتنگر” میں انکی نمائندگی کرتے ہوئے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا کہ باچاخان نے اس قوم کو شعور دینے کیلئے تعلیم کا راستہ اختیار کیا اور اسی لئے انہوں نے تحریک کے آغاز ہی میں آزاد سکولوں کی بنیاد رکھی جس میں انکے بیٹے پڑھے ہیں اور میں خود بھی اسی مدرسے کا طالبعلم رہا ہوں۔میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ ہمیں سب سے پہلے یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم نے حقیقت میں آزادی حاصل کی ہے یا نہیں؟ اب بھی ہم اس نظام کے غلام ہیں جس نے اس قوم کے وسائل کے اختیار پر قبضہ کر رکھا ہے۔اسی لئے جب ہم اپنے وسائل پر اختیار کی بات کرتے ہیں تو اس میں کسانوں کے ساتھ ساتھ قوم کے ہر فرد کے حق کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہنظام بدلنے کیلئے تمام ترقی پسند و قوم پرست قوتوں کو اکھٹاہونا ہوگا کیونکہ ان کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے،ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں دولت کی تقسیم برابری کی بنیاد پر ہو اور ہر فرد کو مساوی حقوق حاصل ہو،آج سب سے پہلے قومی سطح پر ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں دولت کی تقسیم ہو، ہر کسی کو مساوی حقوق حاصل ہو، وہ تعلیمی نظام چاہئیے جہاں امیروغریب کی اولاد کیلئے یکساں نظام تعلیم ہو،پوری قوم کے مزدوروں کو اکھٹا کرنے کا نعرہ اچھا ہے لیکن پشتونوں اور دیگر اقوام کے مزدوروں میں فرق ہے، ہمیں سب سے پہلے اپنی صفوں میں اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا تب ہی ہم اس قابل ہوں گے کہ اپنی حقوق کی جنگ لڑسکیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے آمر فیلڈمارشل جنرل ایوب خان کے خلاف تمام ترقی پسند قوتیں ایک ہوئی تھیں جس کی قیادت خان عبدالولی خان نے کی اور اسی وقت صدارتی انتخابات میں انہوں نے فاطمہ جناح کی حمایت کا اعلان کیا۔ ایوب خان بھی خود کو پشتون کہتا تھا لیکن وہ ایک ظالم تھا اور ہم نے صرف ظلم کے خلاف آواز اٹھائی چاہے وہ پشتون ہو یا کوئی اور۔اگر یہ مترقی قوتیں متفق نہ ہوتی تو اس آمر کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں تھا۔اس صدارتی انتخابات کی وجہ سے قائداعظم کی بہن فاطمہ جناح کو بھی غدار قرار دیا گیا۔میاں افتخارحسین نے کہا کہ جنہوں نے اس ملک کی آزادی کی جنگ لڑی تھی ان کے نام نصاب میں موجود ہی نہیں اور جو اسٹیبلشمنٹ کو قبول تھے وہی اس ملک کے حکمران ٹھہرے۔ آج بھی یہ روش جاری ہے، یہاں تک کہ ایک نئے طریقے سے گذشتہ الیکشن میں چال چلی گئی۔ آج بھی چیلنج کرتا ہوں کہ اگر60فیصد سے کم ووٹ لئے تو شکست تسلیم کرنے کو تیار ہوں۔ ہمارے بھرے بیلٹ باکس خالی جبکہ ان کے خالی بیلٹ باکسز بھردیے گئے اور ان لوگوں کو اس ملک پر مسلط کیا گیا جو اسٹیبلشمنٹ کے منظور نظر ہیں لیکن ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ حقیقی جمہوریت کی بحالی تک ہم ان کے خلاف آئینی طریقے سے لڑتے رہیں گے