پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ سرتاج خان کی شہادت ریاست کے سٹیک ہولڈرز پر قرض ہے اور ہم اس کا سیاسی بدلہ لیں گے، واقعی کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے، اے این پی اب خاموش نہیں رہے گی، سانحے کے اصل محرکات سامنے لائے جائیں، گلبہار میں اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر سرتاج خان کی ٹارگٹ کلنگ اور ان کی شہادت کے خلاف اے این پی سٹی دفتر کے سامنے جی ٹی روڈ پر کارکنوں کے احتجاجی جلوس سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ اب تک ہم قبائلی علاقوں میں ہونے والے مظالم پر آنسو بہا رہے تھے لیکن اب پشاور کے دل گلبہار میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعے نے حکومتی رٹ کا پول کھول دیا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی ٹارگٹ کلنگ ہے اور ہم اس کا بدلہ سیاسی طور پر لیں گے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشت گرد شہر بھر میں کھلے عام گھوم رہے ہیں جبکہ حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں،انہوں نے پولیس کی جانب سے واقعے کو رہزنی کا رنگ دینے کی بھی مذمت کی اور کہا کہ غلط بیانی سے سانحہ پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا، سرتاج خان کو باقاعدہ ٹارگٹ کر کے شہید کیا گیا اور ہم اس کا حساب لیں گے، انہوں نے کہا کہ اے این پی کو دیوار سے لگانے کیلئے ہمیشہ ٹارگٹ کیا گیا لیکن ہم ہمیشہ کی طرح اس بار بھی میدان خالی نہیں چھوڑیں گے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ پاکستان اور خیبر پختونخوا میں امن کے دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن یہ امن اے این پی کیلئے نہیں، بلکہ ہمارے کارکنوں کے قتل کا سلسلہ ہنوز جاری ہے،انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سرتاج خان کو صرف ایک گولی لگی ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ ہے ، وزیر اعلیٰ کی جانب سے واقعے کی مذمت پر میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت قاتلوں کی جلد گرفتاری میں اپنا کردار ادا کرے اور واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرا کے اصل محرکات سامنے لائے جائیں۔