پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ آئین پاکستان ایک متفقہ دستاویز ہے جس میں تمام اداروں کے اختیارات کا تعین کر دیا گیا ہے، تمام ادارے اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کریں تو ملک کبھی مسائل کا شکار نہ ہو، باچا خان مرکز پشاور میں پارٹی وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں منعقدہ اے پی سی مکمل طور پر کامیاب رہی، تمام سیاسی جماعتیں اے این پی کے قائد اسفندیار ولی خان کی چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی تجویز پر متفق ہو گئیں اور اسی سے احتجاجی تحریک کا آغاز ہو چکا ہے، انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے اور باوقار معاشرے کے قیام و معاشی بحران سے نکلنے کیلئے پارلیمان کی بالادستی ضروری ہے،آج پاکستان پر مسلط حکمرانوں کی غیر سنجیدگی کے باعث دنیا اعتبار نہیں کر رہی، انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں متفقہ طور پر بجٹ کو مسترد کیا گیا اور تمام سیاسی قیادت میں اس حوالے سے ہم آہنگی دیکھنے میں آئی، دفاعی بجٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ رضاکارانہ طور پر دفاعی بجٹ میں کوئی کمی نہیں کی یہ سب آئی ایم ایف کی شرائط میں شامل تھا،دھاندلی زدہ حکومت عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتی،تمام غریب اور سفید پوش طبقہ ختم ہو چکا ہے جبکہ سرمایہ کار اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ ا سٹیبلشمنٹ نے پاکستان کی قیمت پر نااہلوں کو ملک پر مسلط کر رکھا ہے اور اگر انہوں نے اپنی غلطی کا ادراک نہ کیا تو ملک کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی، انہوں نے مزید کہا کہ اے پی سی کے حوالے سے منفی پراپیگنڈا کر کے حکومت اپنی خفت مٹانا چاہتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اے پی سی سے تین روز قبل مسلط وزیراعظم، مشیر اطلاعات اور وزراء اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی پر نظریں جمائے بیٹھے تھے اور ڈر و خوف کے مارے اجلاس میں اے پی سی کو کاؤنٹر کرنے پر غور کیا جاتا رہا،انہوں نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں 25جولائی کو یوم سیاہ منانے اور تمام بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے انعقاد پر متفق ہو گئیں،انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں ہونے والے فیصلوں کی نگرانی اور تمام معاملات کیلئے لائحہ عمل کی تیاری کیلئے رہبر کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس میں تمام اپوزیشن جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے،انہوں نے کہا کہ 25جولائی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا،گزشتہ برس اس دن عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا اور تاریخ کی بدترین دھاندلی کی گئی، انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں قبائلی انتخابات میں الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ سٹیشنوں کے اندر فوجی اہلکاروں کی ڈیوٹی لگانے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن اس پر نظر ثانی کرے،اسی طرح الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی سے استعفوں پر بھی اتفاق ہوا جس کے چیئرمین پرویز خٹک خود دھاندلی کی پیداوار ہیں اور اپوزیشن کے بار بار مطالبے کے باوجود کمیٹی کا اجلاس طلب نہیں کیا جا رہا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ کٹھ پتلی وزیر اعظم کو 22کروڑ عوام پر مسلط کر دیا گیا جس کے پاس کوئی اختیار نہیں،حکومت کمزور بیساکھیوں کے سہارے کھڑی ہے، معمولی سی جنبش اسے زمین بوس کر دے گی، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پر ملک کے عوام کی آواز ہے اور میڈیا عوام دشمن و مسلط حکمرانوں کی بجائے عوام کے درد کا احساس کرنے والوں کا ساتھ دے۔