پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ عسکری اداروں سے لیکر تمام اداروں کو آئینی حدودتک محدود رکھنے کیلئے اے این پی جانوں کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریگی،ملک کا وزیر اعظم کسی ایک ادارے کا غلام ہو تو رعایا از خود غلام بن جاتے ہیں،ولی باغ چارسدہ میں عید ملنے کیلئے آنے والے صوابی کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ آج پاکستان میں میڈیا سے لیکر مختلف شکلوں میں تمام اداروں کو غلام بنایا گیا ہے،یہاں تک کہ ایک خاص ادارے نے ملک کے سلیکٹڈڈ وزیر اعظم کیلئے پہلے ماحول بنایا اور پھر دھاندلی کے ذریعے اُس کو الیکشن جتوا کر وزیر اعظم بنایا گیا،اب وزیر اعظم اپنے اُن آقاوں کو خوش کرنے کیلئے ایسے فیصلے کررہے ہیں جس کے اثرات غریب عوام پر پڑ رہے ہیں،جن لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے تمام ادارے آزاد ہیں وہ غلط فہمی میں ہیں کیونکہ پاکستان کا وزیر اعظم بھی ایک خاص ادارے کا غلام ہے،جس ملک کا وزیر اعظم غلام ہو وہاں کے رعایا اور ادارے بھی غلام بن جاتے ہیں۔ایمل ولی خان نے کہا ان اداروں اور جمہوریت کو اصل شکل میں ایک مخصوص ٹولے سے آزاد کرانے کیلئے اے این پی جانوں کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریگی،ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی پہلی فرصت میں مہنگائی کے خلاف ۹ جون کو عملی طور پر احتجاجی مظاہروں کیلئے میدان میں نکل رہی ہے،اسی طرح 18 جون کو میڈیا کی آزادی اور 24 جون کو نیب کے جانبدارانہ کردار کے خلاف اے این پی میدان عمل میں ہوگی۔ایمل ولی خان نے کہا کہ غیر منتخب نالائق حکومت نے اس بار پختونوں کی عید کو بھی متنازعہ بنایا،افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ اب ہمیں اسلامی احکامات فواد چوہدری اور شوکت یوسفزئی بیان کرینگے،خیبر پختونخوا میں پہلی بار حکومت نے ایسا فیصلہ کیا ہے کہ رمضان وفاق کے ساتھ اور عید 28روزوں پر پوپلزئی صاحب کے ساتھ منائے،ایمل ولی خان نے کہا کہ ہمارے دور حکومت میں ہم نے صوبے میں ایک عید اور رمضان کیلئے سرکاری طور پر پوپلزئی صاحب کی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی تھی جس کی وجہ سے پختونوں نے ایک ساتھ عید منایا تھا،ایمل ولی خان نے یہ بھی کہا کہ قضاء قضاء کرنے والے شوکت یوسفزئی کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایک قضاء روزے کے بدلے میں اسلامی حکم کے مطابق مسلسل 60روزے رکھنے پڑتے ہیں،مفتی شوکت یوسفزئی قضاء روزوں کی گردان کے وقت یہ اسلامی حکم بول جاتے ہیں۔ایمل ولی خان نے اس موقع پر مفتی منیب کی جانب سے پشاریوں کے حوالے سے غیر مناسب گفتگو کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اُسے ایک پختون بچے کے ساتھ مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ پختون وہ قوم ہے جس نے مفتی منیب کے بڑوں کو اسلام کا پیغام پہنچایا ہے،اسی لیے مفتی منیب ہماری فکر چھوڑ کر اپنے دین اور ایمان کی فکر کریں۔