عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ نا اہل، کرپٹ اور سیاست سے نا بلد حکومتی ممبران اپوزیشن ارکان کو دھمکیوں سے مرعوب نہیں کر سکتے، صوبائی حکومت کے ترجمان کو اپوزیشن ممبران کے گرفتاریوں بارے کہاں سے الہام ہونے لگا ہے؟ میڈیا پر حکومتی ترجمان شوکت یوسفزئی کے بیان پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتی وزراء کس حیثیت سے نیب کے پی آر او کا کردار ادا کر رہے ہیں؟ اگر واقعی نیب ایک آزاد اور غیر جانبدار ادارہ ہے تو حکومت کے وزراء کو اس ادارے کے معاملات میں دخل اندازی کا اختیار کس نے دے رکھا ہے؟ سردار حسین بابک نے کہا کہ بادی النظر میں نیب حکومتی وزراء کے ساتھ اپنی معلومات شیئر کرتا ہے اور حکومتی اشاروں پر کیسز کھولنے اور گرفتاریوں کا الارم بجایا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ حکومتی ترجمان اور وزراء کس حیثیت سے نیب کے ترجمان بنے ہوئے ہیں؟ہم روز اول سے کہتے آ رہے ہیں کہ نیب جانبدار ادارہ ہے اور حکومتی اشاروں پر کٹھ پتلی کی طرح ناچ رہا ہے،عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے مظاہروں کے اعلان کے بعد سے قلیل عرصہ میں نیب کے2اعلیٰ حکام کی تبدیلی کیا معنی رکھتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر احتسابی ادارہ لاڈلے کو بچانے اور اس کے مخالفین کے خلاف ہتھکنڈے استعمال کرنے کیلئے تیار ہے اور اپنی جانبداری ترک نہ کی تو پھر یہ جنگ کھل کر سڑکوں پر ہوگی،انہوں نے کہا کہ جو حکومت ایک سال میں کابینہ مکمل نہیں کر سکی،عوام کو ایک پیسے کا ریلیف نہیں دے سکی جبکہ6سال میں صوبے کو مالی مشکلات سے نہیں نکال سکی ایسی نااہل اور کرپٹ حکومت اخلاقی طور پر صوبے کی منجھی ہوئی اپوزیشن کو دھمکیوں سے مرعوب بھی نہیں کر سکتی، انہوں نے کہا کہ یہ حکومتی وزراء کی خام خیالی ہے کہ وہ اپوزیشن کو ڈرا دھمکا کر اپنے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈال لیں گے، اے این پی24جون کو پشاور میں نیب کے دفتر کے سامنے عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ کرے گی اور گزشتہ 6سال سے صوبے میں میگا کرپشن سکینڈل کیوں نظر نہیں آ رہے، انہوں نے کہا کہ حکومتی کرپشن کی لسٹ ایک ایک کر کے دیں گے۔