پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی نے وزیرستان میں کرفیو اور اس کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانی ضیاع کے خلاف خیبر پختونخوا اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کر ادیا ہے، توجہ دلاؤ نوٹس پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے جمع کرا یا اور اس میں سپیکر کی توجہ انسانی نوعیت کے اس اہم مسئلے کی جانب مبذول کرائی گئی ہے کہ وزیرستان میں گزشتہ دس روز سے جاری کرفیو کے باعث انسانی جانیں داؤ پر لگی ہیں، علاقے میں اشیائے خوردونوش ختم ہو چکی ہیں جس کے باعث لوگ بھوک سے مر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ انسانیت کے دم توڑنے کے باوجود حکومت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے جس سے لوگوں کے مسائل اور مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے،سردار حسین بابک نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں،ملکی و بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کی خاموشی اور میڈیا کی جانب سے ایک انسانی مسئلے کا بلیک آؤٹ کرنا حیران کُن اور تکلیف دہ عمل ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قیمتی جانی و مالی نقصانات اٹھانے والے وزیرستان کے عوام کو پہلے ہی معمولات زندگی میں دشواریوں کا سامنا رہا ہے،ایسے میں کرفیو کے نفاذ اور اس کے نتیجے میں بے گناہ اموات انتہائی افسوسناک اور زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے، صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور گورنر کی جانب سے مسئلے پر مستقل اور مکمل خاموشی تعجب خیز ہے جس سے پختونوں میں احساس محرومی بڑھتا جا رہا ہے،انہوں نے صاحب اقتدار لوگوں کی جانب سے نظر انداز کرنے کے باوجود نوجوانوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر مسئلے کو اٹھانا اور وہاں کے عوام کے دکھ درد میں شریک ہو کر انتہائی اہم نوعیت کے مسئلے پر بات کرنے کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کو تقلید کرتے ہوئے اپنی خاموشی توڑنی چاہئے اور علاقے میں کرفیو کا خاتمہ کر کے اشیائے خوردونوش کی ترسیل یقینی بنانا چاہئے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ کرفیو کے دوران خوراک کی کمی کے باعث جاں بحق ہونے والوں کو شہداء پیکج میں شامل کیا جانا چاہئے جبکہ خوراک کی ترسیل حکومتی سطح پر یقینی بنائی جائے۔