عوامی نیشنل پارٹی نے صوبائی بجٹ کو جگا ٹیکس اور عوام کے ساتھ ظلم قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے اور کہاہے کہ بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے اور حکمرانوں نے اپنی لوٹ مارکے لئے صرف اعداد و شمار میں ہیر پھر کی ہے، صوبائی بجٹ میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور ٹیکسوں میں اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا جس سے غریب عوام پر مزید بوجھ بڑھے گا،خیبر پختونخوا کیصوبائی بجٹ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے کی پسماندگی اور ضرورت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بجٹ پیش کیاہے اور تعلیم و صحت کے شعبوں کو نظر انداز کیا گیا ہے،ہائیر ایجوکیشن کو غریب عوام کی دسترس سے باہر کر دیا گیا ہے جبکہ جامعات میں سکالر شپس ختم کر کے فیسوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا گیا ہے،انہوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ امور نوجوانونان کے بجٹ میں سو فیصد اجافہ کر کے انہیں نوجوانون پر تعلیم کے دروازے بھی بند کر دیئے گئے،انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کیلئے صوبے کا حصہ ہونے کے باوجود انتہائی قلیل بجٹ مختص کرکے کیا پیغام دیا گیا ہے؟ غریب عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا، الفاظ کے ہیر پھیر کو بجٹ قرار نہیں دیا جا سکتا،انہوں نے کہا کہ تعلیمی اصلاحات کی بجائے تعلیمی اداروں پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کر کے عوام کی مشکلات بڑھا دی گئیں،صوبے کے چھوٹی کاروباری سرگرمیوں پر ٹیکسوں کا نفاذ مہنگائی کے اس دور میں زیادتی ہے،ایمل ولی خان نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور حوصلہ افزائی کیلئے قرضوں میں چھوٹ ناگزیر ہے، انہوں نے کہا کہ بجٹ کو بیلنس رکھنے کیلئے ابھی سے بیرونی قرضوں کے حسول کی تیاریاں جاری ہیں،خیبر پختونخوا کے عوام یہ قرضے کس طرح واپس کریں گے؟انہوں نے کہا کہ بجٹ میں صرف ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور 10سے20ہزار روپے ماہانہ کمانے والوں پر بھی ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں، جبکہ آمدن کے ذرائع بڑھانے کا کوئی طریقہ نہیں بتایا گیا،انہوں نے کہا کہ
وفاقی بجٹ کے بعد اب صوبائی بجٹ نے بھی ملک کی 99فی صد کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے ورکنگ کلاس اور محنت کشوں پر 10فی صد سروس ٹیکس لگانا دراصل تحریک انصاف کی غریب عوام کش پالیسی کا حصہ ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت معاشی طور پر کمزور طبقات کو بجٹ کے ذریعے ریلیف دیتی اور انکے کاروبار کے لیے اوپن مارکیٹ میں مواقع پیدا کئے جاتے،ایمل ولی خان نے کہا کہ ترقیاتی پروگرام میں اضافے کے اعداد وشمار کا کریڈٹ لینے والے قوم کو یہ بھی بتا دیں کہ گزشتہ مالی سال میں بجٹ میں مختص کردہ ترقیاتی پروگرام پر کس حد تک عمل کیا گیا،صوبے میں ایک پرائمری سکول تک نہ بنانے والوں کو ترقیاتی پروگرام میں 41فیصد اضافے کی باتیں زیب نہیں دیتیں۔