پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی نے موجودہ وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیاہے اور کہا ہے کہ حکومت سے ایسے بجٹ کی ہی توقع تھی، حکمرانوں کی غریب مکاؤ پالیسیوں نے تعلیم صحت اور روزمرہ استعمال کی اشیاء میں ہوشرباء اضافہ کر کے امیر طبقے کو ریلیف اور غریب آدمی کی مشکلات میں اضافہ کر کے گھر کا کچن چلانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بنا دیا ہے،پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے وفاقی بجٹ2019,20 پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کُلی طور پر آئی ایم ایف کا تیار کردہ ہے اور اس میں ایک بار پھر غریب عوام کو نشانہ بنایا گیا ہے،گوشت، مرغی، دالیں سبزیاں اورکھانے پینے کی تمام اشیاء غریب کی دسترس سے دور کر دی گئیں،بلواسطہ ٹیکسوں پر زیادہ انحصار کی پالیسی کے ذریعے متوسط طبقے اور غریب عوام پر تاریخ کا سب سے زیادہ بوجھ لاد دیا گیا،حکومت کے وسائل اپنے ہیں نہ پالیسیاں، بجٹ سے کشکول کا سائز مزید بڑا اور خودکشیوں میں اضافہ ہو گا،بجٹ میں غریب کو سستی روٹی،تعلیم،صحت دینے اور غیر ملکی قرضوں سے نجات کا کوئی ٹھوس پلان شامل نہیں، انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ مفروضوں پر مشتمل ہے اور موجودہ حکومت آئینی تقاضوں کو پورا نہیں کرسکی، بجٹ امیر دوست، مایوس کن اور مزدور کش ہے، اس بجٹ میں ملک کی غریب اور پسی ہوئی عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، ٹیکسوں کی بھر مار کا سارا بو جھ غریب عوام پر پڑے گا اور اس سے مہنگائی کا ایک اور سیلاب آئے گا،چینی پر سیلز ٹیکس کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ کر کے حکومت نے اپنی نااہلی ثابت کر دی ہے، ملکی تاریخ میں کبھی چینی پر اتنا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، ملاز مین کی بنیادی تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضا فہ اْونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے، انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں الفاظ کے ہیر پھیرسے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی گئی، یہ بجٹ وفاقی حکومت نے نہیں بلکہ حکمرانوں کو قرض دینے والے بیرونی اداروں نے تیار کیا ہے جبکہ حکومتی وزیر نے صرف اسے پڑھ کر سنانے کی رسم پوری کی ہے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ بجٹ میں عام ضروریات زندگی کی چیزیں مہنگی کردی گئیں جب تک ملک میں غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر بجٹ بنتے رہیں گے عام آدمی کو ریلیف نہیں مل سکتا۔