پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے کہا ہے کہ معیشت کے حوالے سے چیف آف آرمی سٹاف کا بیان کھلم کھلا ایک حساس ادارے کا سیاست میں مداخلت ہے،چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے جاری کردہ بیان اس بات کا بھی اعتراف ہے کہ ملٹری اسٹیبلیشمنٹ نے 25جولائی کو جو غلطی کی تھی اُس کا احساس اُن کو بھی ہوگیا ہے لیکن انا کی وجہ سے وہ کپتان کو تاحال سپورٹ کررہے ہیں،چیف آف آرمی سٹاف نے اپنے بیان میں واضح کردیا ہے کہ کپتان سلیکٹڈ ہے اور انہی کے مرہون منت وہ آج وزیراعظم بنا ہے۔باچا خان مرکز پشاور سے جاری کردہ اپنے بیان میں چیف آف آرمی سٹاف کے معیشت بارے بیان پرردعمل دیتے ہوئے زاہد خان نے کہا بدقسمتی سے پاکستان میں آج تک اسٹیبلیشمنٹ نے جمہوریت اور آئین کو تسلیم نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ اگر ایک طرف گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان دہشتگردی کی آگ میں جل رہا ہے تو اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ ملکی معیشت بھی تباہی کے دہانے آکر کھڑی ہوگئی ہے،انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ معیشت کے ساتھ فوج کا کوئی تعلق نہیں لیکن چونکہ کپتان فوج کا ہی سلیکٹڈ ہے تو اسی وجہ سے نالائق کپتان کی نالائقی کی وجہ سے آئے روز اداروں میں مداخلت ہورہی ہے۔زاہد خان نے کہا کہ فیض آباد دھرنے کو سجانے اور سیاسی مداخلت پر ایک جنرل کو ڈی جی آئی ایس آئی بنا دیا گیا کیا یہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی نہیں،جس جنرل کا کورٹ مارشل ہونا تھا اُس کو انعام کے طور پر ڈی جی آئی ایس آئی بنا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اداروں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ سیاست میں حصہ لیں گے تو ملک کا دفاع کون کریگا؟نیب،الیکشن کمیشن اور عدلیہ کو کپتان کیلئے گھر کی لونڈیاں بنا دی گئی ہے،کپتان کے سیاسی مخالفین عدالتوں اور نیب دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں جبکہ کپتان اور اُن کے کرپٹ ٹیم کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں جو کچھ ہورہا ہے اُس سے باہر کی دنیا میں ملک کی جگ ہنسائی ہورہی ہے،میڈیا پر پابندی لگا دی گئی ہے لیکن حقائق کہی چھپ نہیں سکتے اور آئے روز نئے نئے سکینڈلز سوشل میڈیا پر آرہے ہیں،اگر معاملات اسی طرح چلتے رہے تو خدانخواستہ یہ ملک باقی نہیں رہے گا،تمام اداروں کو اپنے آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا تب جاکر یہ ملک بچ سکے گا۔زاہد خان نے کہا کہ ون یونٹ کے وقت بھی اسٹیبلیشمنٹ نے اپنی ضد اور انا کی وجہ سے پاکستان کو دولخت کردیا تھا اور اب دوبارہ حالات اُسی طرف گامزن ہے۔