پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ6سال سے کرپشن اور لوٹ مار کا دور دورہ ہے،ہر طرف کرپشن کا جال بچھا پڑا ہے لیکن بدقسمتی سے احتساب کرنے والے خود چوروں کے ساتھ مل گئے ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیات آئباد پشاور میں نیب خیبر پختونخوا کی جانبداری اور کرپشن پر مجرمانہ خاموشی کے خلاف منعقدہ عظیم الشان احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب پرویز خٹک کے خلاف کافی ثبوت اور ان کی گرفتاری بارے گرین سگنل دے چکے تھے لیکن بعد میں کسی خفیہ قوت کے باعث اپنے دعوؤں سے دستبردار ہو گئے اور آج تک پرویز خٹک کے حوالے سے فائلوں پر گرد پڑی ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ پی ڈی اے کے ڈی جی سلیم حسن وٹو پرویز خٹک کا فرنٹ مین تھا جس کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو گئے تھے لیکن اس کا کیس دانستہ طور پر پشاور سے راولپنڈی منتقل کر دیا گیا، اور انکوائری کو بند کرنے کیلئے غیر قانونی طور پر چیئرمین نیب فخر زمان کو بھی ہٹا دیا گیا، انہوں نے کہا کہ ڈوریاں کہیں اور سے ہلائی جا رہی ہیں اور کرپٹ مافیا کو بچانے کیلئے ہر غیر قانونی حربہ استعمال کیا جا رہا ہے،ایمل ولی خان نے کہا کہ اس کیس میں اربوں روپے کی کرپشن موجود ہے جس کا اعتراف نیب کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں کیا جا چکا تھا، مذکورہ افسر خاص نیب لاہور کا موجودہ ڈی جی ہے جس کا اپنا جعلی ڈگری کیس سپریم کورٹ میں ہے، انہوں نے کہا کہ احتساب احتساب کی گردان کرنے والے مسلط وزیر اعظم نے اپنی چھتری تلے احتساب زدہ جمع کر رکھے ہیں،بی آر ٹی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں میٹرو کو جنگلہ بس کہنے والوں نے میٹرو کے نام پر عوام اور سرکاری خزانہ کو بے دردی سے لوٹا، 49ارب روپے کے تخمینہ سے شروع ہونے والی بی آر ٹی کا خرچ بڑھ کر 68ارب تک پہنچ گیا جو اب ایک کھرب سے کہیں اوپر جا چکا ہے اور اڑھائی سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہوئی جبکہ کمیشن مافیا 6ماہ میں مکمل ہونے کا دعوی کرتا رہا، ایشیائی ترقیاتی بنک سے لیا جانے والا قرضہ خیبر پختونخوا کے عوام ادا کریں گے لیکن وزراء آج تک اس منصوبے کی تکمیل بارے واضح تاریخ نہیں دے سکے،انہوں نے کہا کہ نیب کو بی آر ٹی کرپشن پر سانپ سونگھ گیا ہے، خیبر پختونخوا کی اپنی معائنہ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق منصوبے میں 7ارب روپے کمیشن لی گئی اور یہ بنا کسی منصوبہ بندی کے شروع کیا گیا، ناقص منصوبہ بندی کے پیش نظر بار بار نقائص سامنے آتے رہے یہاں تک کہ ٹریک مکمل ہونے تک ٹھیکیدار کو پتہ نہ چلا کہ اس میں بسیں نہیں گزر سکتیں،انہوں نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ بھی یہی بتا رہی ہے کہ منصوبے سے پشاور کی سڑکیں پہلے کی نسبت40فیصد تنگ ہو چکی ہیں، ایمل خان نے مزید کہا کہ مسلط وزیر اعظم پر ہیلی کاپٹر کے غیر قانونی استعمال کا کیس موجود ہے، عمران نیازی نے سرکاری ہیلی کاپٹر74گھنٹے استعمال کر کے سرکاری خزانے کو 20لاکھ سے زائد کا ٹیکہ لگایا لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی کیونکہ نیب ان کا دایاں ہاتھ بن چکا ہے،اسی طرح بلین ٹری سونامی میں اربوں روپے لوٹ لئے گئے، پنجاب سے مہنگے پودے خرید کر خزانے کو نقصان پہنچایا گیا، جن مقامات کی نشاندہی کی گئی پارلیمانی کمیٹی کے دورے نے ڈھول کا پول کھول دیا،موجودہ درخت اسناد میں ظاہر کئے گئے اعداد وشمار سے بالکل مختلف تھے اور اسی بنا پر کرپشن چھپانے کیلئے 92مقامات پر جنگلات کو آگ لگا دی گئی،صوبائی صدر نے انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے قدرتی وسائل کو بیدردی سے لوٹ لیا گیا، ملم جبہ اراضی سکینڈل میں 275 ایکڑ زمین صوبائی وزیر عاطف خان کے قریبی ساتھیوں کو غیر قانونی طور پر دے دی گئی اس اہم نوعیت کے معاملے پر عاطف خان، پرویز خٹک اور اعظم خان کو نیب میں طلب بھی کیا گیا تھا لیکن ان فائلوں کو ملبے تلے دفن کر دیا گیا، نیب اب تک ہونے والے کرپشن کیسوں میں ملزموں کو بچانے میں برابر کا شریک ہے،ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ محکمہ صحت کا حلیہ بگاڑ دیا گیا جس کا سہرا عمران نیازی کے کزن ڈاکٹر برکی کے سر ہے،نوشیروان برکی کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا بے تاج بادشا بنا کر غریبوں سے جینے کا حق چھین لیا گیا،عدالت عظمی کی جانب سے اسے عہدے سے ہٹایا گیا لیکن مسلط کٹھ پتلی وزیر اعطم نے اقتدار میں آ کر ہسپتال دوبارہ اس کی جھولی میں ڈال دیا،جبکہ پی ٹی آئی کے منظور نظر افراد کو ڈائریکٹرز کے عہدوں پر تعینات کر دیا گیا،ہسپتال میں ہونے والے بھرتیوں میں اقربا پروری کا ریکارڈ توڑا گیا، امریکی معیار کے وینٹی لیٹرز کی بجائے چائنہ سے منگوا کر بچوں کی جانوں سے کھلواڑ کیا گیا، یہ وہ تمام داستانیں ہیں جو زبان زد عام ہیں لیکن احتسابی اداروں کی آئنکھ سے اوجھل ہیں،انہوں نے کہا کہ احتساب کمیشن محکمہ معدنیات میں غیر قانونی مائننگ کا اعتراف کر چکا ہے جہانگیر ترین کی کمپنیوں کو ٹھیکہ دیا گیا جس کا انکشاف ضیا اللہ آفریدی کر چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب جاوید چودھری کے ساتھ انٹرویو میں پرویز خٹک کی گرفتاری بارے گرین سگنل دے چکے تھے لیکن بعض خفیہ قوتوں کے دباؤ کے باعث گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی،انہوں نے کہا کہ چیئرمین قوم کو بتائیں کہ ان گرفتاریوں میں کون رکاوٹ بن رہا ہے،آخر میں ایمل ولی خان نے ناصر خان درانی کے دور میں ٹریفک پولیس میں ہونے والی خرد برد کی نشاندہی کی اور یاد دلایا 2013-17 کے دوران ٹریفک پولیس کیلئے سامان کی خریداری میں 1.92ارب روپے کی کرپشن کی گئی جس کی وضاحت نیب کے خط میں کی گئی جبکہ اسسٹنٹ پولیس لائنز بنانے میں 300ملین روپے خرد برد کر لئے گئے، انہوں نے کہا کہ قوم کے دولت لوٹنے والوں نے پولیو مہم میں سیکورٹی کے نام پر بھی1.25ملین روپے لوٹ لئے، ایمل ولی نے کہا کہ اے این پی اس تمام کرپشن کتھا کے خلاف میدان میں ڈٹی رہے گی اور قوم کا پیسہ لوٹنے والوں کے عبرتناک انجام تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔