عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ جمہوریت میں صحافت پر پابندی غیر آئینی ہے، میڈیا کا گلہ گھونٹنے سے ثابت ہو گیا ہے کہ عمران کٹھ پتلی ہے اور اصل حکومت اسٹیبلشمنٹ کی ہے، ملک میں جلد از جلد نئے انتخابات کرا کے اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کیا جائے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے این پی کے زیر اہتمام صحافت کی آزادی اور صحافیوں کے معاشی قتل عام کے خلاف پشاور پریس کلب کے سامنے عظیم الشان احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر صوبائی صدر ایمل ولی خان، سردار حسین بابک اور دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا،جبکہ مرکزی و صوبائی قیادت سمیت کارکنوں کی کثیر تعداد نے مظاہرے میں شرکت کی، میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ سب سے پہلے باچا خان نے صحافت کی آٓئزادی کی جدوجہد شروع کی جبکہ رہبر تحریک خان عبدالولی خان نے ایوب کے مارشل لا کے خلاف میدان میں نکلے لیکن اسٹیبلشمنٹ نے ملک کی سب سے بڑی پارٹی نیشنل عوامی پارٹی کو ایک صوبے تک محدود کر دیا اور آج پورا ملک ایک سیٹ والے کٹھ پتلی کو دے دیا گیا، انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کو بڑی سیاسی جماعتوں سے تکلیف محسوس ہوتی رہی جس کے باعث اس بار مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کو ایک صوبے تک محدود کر دیا گیا جبکہ پختون قیادت کو پارلیمنٹ سے باہر کر دیا،انہوں نے کہا کہ سول مارشل لاء میں صحافت کے تین بڑے گروپ ختم کر کے اپنی مرضی کے اینکر پرسن سامنے لائے گئے اور صحافت کی آڑ میں اسٹیبلشمنٹ کا پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا،کٹھ پتلی صحافیوں کو سامنے لا کر حقیقت لکھنے والوں کو جبری برطرف کر دیا گیا جبکہ میڈیا مالکان کو دھمکیوں کے ذریعے یرغمال بنا لیا گیا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کو غلام بنا کر ظلم کیا گیا،ملکی کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا کو وزیرستان جانے کی اجازت دی جائے تاکہ عوام کو حقیقت سے آگاہ کیا جا سکے، خڑ کمر میں فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے،انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں دو پختون ممبران اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے جا رہے اور سپیکر نے اس حوالے سے معذرت بھی کی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ سپیکر قومی اسمبلی بھی کٹھ پتلی ہے،انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں الیکشن کیلئے انتخابی مہم جاری ہے اور گزشتہ سال کی طرح اس بار بھی وہی عمل دہرایا گیا ہے، جنرل الیکشن سے قبل ہارون بلور کو شہید کیا گیا جبکہ اس بات مولانا گل داد کو راستے سے ہٹانے کیلئے ان پر بم حملہ کیا گیا ہے تاہم خوش قسمتی سے ان کی جان بچ گئی ہے، میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ اے این پی کے تحفظات کے باوجود الیکشن کمیشن نے سیکورٹی اہلکاروں کو پولنگ سٹیشنوں کے اندر تعینات کرنے کی ہٹ دھرمی کا اظہار کیا ہے جس سے لگ رہا ہے کہ ایک بار پھر مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا جائے گا،انہوں نے وفاقی بجٹ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے مظالم کے خلاف خاموش نہیں رہ سکتے،متوقع اے پی سی میں حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے فیصلے پر سیاسی جماعتوں کا ساتھ دیں گے،انہوں نے کہا کہ بلین ٹری سونامی میں اربوں روپے کی کرپشن کو دھونے کیلئے صوبے کے مختلف جنگلات میں آگ لگا دی گئی ہے تاکہ ریکارڈ ضائع کیا جا سکے، تاہم قوم با شعور ہے اور اب کٹھ پتلیوں کو زیادہ دیر ٹکنے نہیں دیں گے،انہوں نے کہا کہ ہم ظلم کے ضابطوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں اور ملک میں آزاد صحافت، آزاد عدلیہ اور آئزاد پارلیمنٹ کیلئے جنگ جاری رکھیں گے۔
اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے اپنے خطاب میں تمام صحافتی تنظیموں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے صحافت کی آزادی کیلئے مظاہرے کی حمایت کا اعلان کیا، انہوں نے کہا کہ میڈیا کی آزادی چھوٹی قومیتوں کی ضرورت ہے،لیکن بدقسمتی سے ملک میں آزاد صحافت کو یرغمال کر لیا گیا ہے اور اس مذموم مقصد کی خاطر ایک مخصوص ادارے کو سنسر شپ کیلئے اربوں روپے دیئے جا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ ملک میں پارلیمنٹ، عدلیہ اور صحافت ایک ادارے کے غلام ہیں،ایمل ولی خان نے کہا کہ آج کا احتجاج عوام کے بہتر مستقبل کی جانب پہلا قدم ہے اگر حکومت نے مظالم کا سلسلہ بند نہ کیا تو سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی جائے گی،جس کے بعد اگلا قدم انقلاب کی جانب ہو گا۔انہوں نے کہا کہ نیب خیبر پختونخوا میں ہونے والی کرپشن پر خاموش ہے جسے جگانے کیلئے اے این پی 24جون کو میدان میں نکلے گی اور نیب دفاتر کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔
سردار حسین بابک نے اپنے خطاب میں صحافت پر غیر قانونی سنسر شپ اور میڈیا ہاؤسز سے ہزاروں کارکنوں کو بے روزگار کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سول مارشل لاء نافذ ہے،کٹھ پتلی وزیر اعظم اپنے خلاف بات کرنے والوں کو برداشت نہیں کرتا، ملک کے سینئر اینکر پرسنز در بدر ہو چکے ہیں اور ایک مخصوص ٹولہ کٹھ پتلی وزیر اعظم کی خوشامد میں مصروف ہے،انہوں نے کہا کہ عدالتوں اور ججز کی ذات پر حملے کئے جا رہے ہیں،انہوں نے مطالبہ کیا کہ میڈیا کی آزادی بحال کی جائے اور صحافی برادری کو درپیش مشکلات و خطرات کا تدارک کیا جائے۔
حاجی غلام احمد بلور نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافت ملک کا چوتھا اہم ستون ہے جسے یرغمال بنا لیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ میڈیا نے ہمیشہ ہمیں نظر انداز کیا اس کے باوجود جب بھی صحافت پر برا وقت آیا اے این پی میدان میں نکلی،انہوں نے کہا کہ کٹھ پتلی وزیر اعظم نے ملک کو دیوالیہ کر دیا ہے اور آئی ایم ایف نے آ کر سہارا دیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم عوام دشمن بجٹ مسترد کرتے ہیں اور اسمبلی میں کسی صورت پاس نہیں ہونے دیا جائے گا، حاجی غلام احمد بلور بجٹ پاس نہ ہوا تو حکومت خود بخود گر جائے گی،انہوں نے کہا کہ ملک بنانے میں سیاستدانوں نے کلیدی کردار ادا کیا لیکن آج باگ ڈور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہے،انہوں نے کہا کہ وردی والے چند سال بعد ریٹائر ہو کر گھر چلے جائیں اور ان کا کوئی نام لیوا نہیں ہو گا لیکن سیاستدانوں نے ہی اس ملک کوچلانا ہے، انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکمتوں کو چور کہنے والے یاد رکھیں ماضی میں ملک ترقی اور عوام خوشحال تھے جبکہ موجودہ دور میں غریب مر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی قیادت کو متحد ہو کر سوچنا چاہئے۔