پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ حکومت احتساب کے نام پر اپوزیشن کی آواز کو نہیں دبا سکتی،دنیا جانتی ہے کہ جانبدارانہ احتساب سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں، مسلم لیگ کے رہنما حمزہ شہباز اور آصف علی زرداری کی گرفتاری پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے میڈیا کی زبان کنٹرول کی ہوئی ہے اور ایک مخصوص بیانیہ کے ذریعے پی ٹی آئی والوں کو فرشتے جبکہ سیاسی مخالفین کو چور ثابت کرنے کیلئے میڈیا کو استعمال کیا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ میڈیا کو یرغمال کر کے سب اچھا کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جا رہی ہے جو انتہائی بھونڈی کوشش ہے اور عوام اس بہکاوے میں آنے والے نہیں، انہوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ نیب کی توپوں کا رخ صرف پنجاب اور سندھ کی طرف کیوں ہے؟جبکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے وزرائے اعلیٰ اور وزراء اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہیں لیکن نیب کو میگا کرپشن سکینڈل نظر نہیں آ رہے، انہوں نے کہا کہ24جون کو نیب کے منہ پر لگی چپ توڑنے کیلئے اے این پی مظاہرے کرے گی اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک صوبے کے وسائل لوٹنے والوں کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا جائے،ایمل ولی خان نے کہا کہ بی آر ٹی پشاور کرپشن کی ماں ہے اسی طرح پشاور بیوٹیفیکیشن اور ملم جبہ اراضی سکینڈل کھلی کتاب کی مانند ہے لیکن نیب حکومتی آلہ کار بن کر مجرموں کو تحفظ فراہم کر رہا ہے،انہوں نے کہا کہ احتساب کے نام پر سیاسی مخالفین کو راستے سے ہٹانے کی پالیسی ملکی مفاد میں نہیں ہو گی، حکومت نے روش نہ بدلی تو ملک انارکی کی جانب بڑھے گا،ایمل ولی نے کہا کہ لاڈلے کو چلانے کیلئے ملک کی سلامتی داؤ پر لگا دی گئی ہے،صورتحال برقرار رہی تو بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ اے این پی میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے اور یرغمال میڈیا کو آزادی دلانے کیلئے18جون کو سڑکوں پر ہونگے۔