پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کی قبائلی اضلاع انتخابات کیلئے جنوبی وزیرستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں تشکیل دی جانے والی کمیٹی کا خصوصی اجلاس باچا خان مرکز پشاور میں زیر صدارت مرکزی نائب صدر حسین شاہ یوسفزئی منعقد ہوا،اجلاس میں جنوبی وزیرستان کمیٹی کے ممبران واجد علی خان،اشفاق خان ایڈوکیٹ اور توصیف اعجاز یوسفزئی نے شرکت کی جبکہ شاہی خان شیرانی خصوصی طور پر اجلاس میں شریک ہوئے، اس موقع پر قبائلی انتخابات کے حوالے سے جنوبی وزیرستان مین انتخابی مہم چلانے اور وہاں دورے کرنے سے متعلق اہم امور زیر غور آئے جبکہ دوروں کے حوالے سے لائحہ عمل طے کر لیا گیا، اجلاس میں بارڈر ٹیکس کے نفاذ پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ بارڈر ٹیکس کا فیصلہ واپس لے کر انگور اڈہ بارڈر فور طور پر کھولا جائے تاکہ قبائلی عوام اس کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں،انہوں نے کہا انتخابی عمل کے دوران مخالف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومتی جماعت کے امیدوار کو تمام تر سہولیات دی جا رہی ہیں جبکہ مخالفین کو دفعہ144کے نام پر ہراساں کرنے اور گرفتار کرنے کا اقدام قابل مذمت ہے، اجلاس کو بتایا گیا کہ علاقے میں موجود کولڈ سٹوریج بند ہونے کی وجہ سے فروٹ کے آڑھتیوں کو کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز خصوصاً لیڈی ڈاکٹرز کی کمی سے انسانی جانوں کے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے،اجلاس میں اس امر پر افسوس کا ظاہر کیا گیا کہ انضمام کے بعد عدالتی نظام کی قبائلی علاقوں کی رسائی کے اعلانات کے باوجود تاحال ججز ٹانک تک محدود ہیں جس کی وجہ سے وانا کے شہری بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پر رہا ہے، اجلاس کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ عدالتی نظام قبائلی علاقوں تک رسائی دی جائے اور انصاف کی فراہمی میں لیت و لعل سے گریز کیا جائے۔