پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر سرتاج خان کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں جنگل کا قانون اور دہشت گردوں کا راج ہے، صوبائی حکومت دہشت گردوں کی ساتھی ہے اور اس نے دہشت گردوں کو شہریوں کے قتل عام کا لائسنس جاری کیا ہواہے، اپنے مذمتی بیان میں ایمل ولی خان نے دہشت گردی کی اس بہیمانہ کارروائی کے خلاف تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سرتاج کان کو دن دیہاڑے تھانے کے قریب ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا لیکن مثالی پولیس قاتلوں کو پکڑنے میں ناکام رہی، انہوں نے کہا کہ شہر بھر میں جہادیوں کے نام پر طالبان گھوم رہے ہیں،صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں،جبکہ اے این پی رہنماوں کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور انہیں چن چن کر مارا جا رہا ہے،گزشتہ برس اسی عرصہ کے دوران ہارون بلور اور اس کے ساتھ 23ساتھیوں کو شہید کیا گیا اور ان کی برسی سے قبل ایک بار پھر اے این پی کی پیٹھ پر وار کیا گیا، انہوں نے کہا کہ شہادتوں کے سلسلے پر اب مزید خاموش نہیں رہیں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے، ایمل ولی خان نے کہا کہ موجودہ حالات میں سیکورٹی اداروں کیلئے امن و امان کی صورت حال لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔