عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع انتخابات کیلئے حکومت خود حالات خراب کر رہی ہے، امیدواروں کو سیکورٹی دینے کی بجائے آیت الکرسی کی تلقین کی جا رہی ہے تاہم اے این پی الیکشن میں کسی کیلئے میدان خالی نہیں چھوڑے گی،بحیثیت مسلمان ہمارا عقیدہ آیت الکرسی پر ہے لیکن کاش انتضامیہ بھی اس پر عمل کرتے ہوئے درجنوں گاڑیوں کے پروٹوکول سے اجتناب کرتی، باچا خان مرکز میں قبائلی اضلاع انتخابات میں ضلع مومند کیلئے قائم کی گئی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اے این پی واحد سیاسی جماعت ہے جو عوامی حقوق کا تحفظ کرنا جانتی ہے، اجلاس میں اے این پی مہمند کے امیدوار نثار خان مہمند، حضرت خان مومند اور کمیٹی ممبران شیر شاہ خان، حمایت اللہ مایار،اے این پی چارسدہ کے ضلعی صدر شکیل بشیر خان، سابق صدر قاسم علی خان اور کمال ناصر خان نے خصوصی شرکت کی،اجلاس میں ضلع مومند کے دونوں حلقوں پی کے103اور104میں الیکشن کی تیاریوں و ضروریات کا جائزہ لیا گیا،اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ مومند کے ساتھ بارڈر قریب ہونے کے باعث چارسدہ کو انتہائی اہمیت حاصل ہے لہٰذا چارسدہ کے ساتھیوں کو انتخابی مہم بھرپور انداز میں چلانے کی ہدایت کی گئی، اسی طرح حمایت اللہ مایار کو مردان میں بسنے والی مہمند برادری کے ساتھ قریبی رابطوں کا ٹاسک دیا گیا،صوابی اور پشاور میں رہائش پذیر مہمند برادری کے ساتھ رابطوں اورانتخابات میں اے این پی کو سپورٹ کرنے کیلئے بھی لائحہ عمل طے کر لیا گیااور اس مقصد کیلئے حاجی ہدایت اللہ خان، سرتاج خان اور دانیال بلور کو ٹاسک سونپا گیا،خواتین میں انتخابی مہم کیلئے سکینہ بی بی اور عائشہ مہمند کو ذمہ داریاں حوالہ کر دی گئیں،میاں افتخار حسین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مومند ضلع میں پینے کا پانی نایاب ہے لیکن حکومت کی طرف سے اس جانب سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا، انہوں نے کہا کہ مومند ڈیم کی تکمیل کے بعد سب سے پہلے اس علاقے میں پینے کے پانی کا مسئلہ حل کیا جائے، انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کے حوالے سے خدشات و تحفظات موجود ہیں، تمام انتخابی امیدواروں کو سیکورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن انتظامیہ سیکورٹی دینے کی بجائے آیت الکرسی کی تلقین کر رہی ہے،انہوں نے کہا کہ کسی بھی نقصان کی ذمہ دار حکومت ہو گی،میاں افتخار حسین نے کہا کہمولانا گل داد پر حملہ ہو چکا ہے جس میں وہ بچ گئے لیکن ایک قیمتی انسانی جان ضائع ہو گئی،انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضلع میں تباہ حال گھروں کا ازسر نو سروے کر کے تخمینہ لگایا جائے اور نقصانات کے برابر متاثرین کو رقم ادا کی جائے،اجلاس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ طورخم اور کرتارپور کی طرح گوسل تجارتی راہداری بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے جو ایک طویل عرصہ سے بند ہے، اجلاس میں کہا گیا کہ گوسل بارڈر کھولا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے،اجلاس میں پیپلز کارڈ و ہیلتھ کارڈ کو بطور سیاسی رشوت استعمال کرنے کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ان ہیلتھ کارڈز کیلئے رقم سرکاری خزانے کی امانت ہے جسے کوئی سیاسی جماعت انفرادی تشہیر کیلئے استعمال نہیں کر سکتی اور اگر یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو ہم آئینی و قانونی راستہ اختیار کرنے کا حق رکھتے ہیں،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تشکیل کردہ کمیٹی پولنگ کے دن تک ضلعی تنظیم اور امیدواروں کے ساتھ رابطے میں رہے گی اور تمام ضروریات پوری کرنے و آسانیاں پیدا کرنے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی، میاں افتخار حسین نے اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا کہ قبائلی اضلاع میں ہونے والے انتخابات حکومتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے تذبذب کا شکار ہیں اور صورتحال ابھی تک غیر یقینی ہے، دیگر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لئے بغیر حکومت کی طرف سے کئے گئے فیصلے پری پول رگنگ کی کوشش ہے،انہوں نے کہا کہ وزیراعطم نے قبائلی اضلاع میں دوروں کے دوران سیاسی رشوت کے اعلانات کئے، انہوں نے خبردار کیا کہ قبائلی انتخابات میں 25جولائی کی طرح عوامی مینڈیٹ پر ڈاکی ڈالنے کی کوشش کی گئی تو صورتحال خطرناک طرف جائے گی،انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال انتخابی مہم کے دوران ہارون بلور کو شہید کر دیا گیا جبکہ اس بار مولانا گل داد پر بم حملہ اسی سلسلے کی کڑی ہے،انہوں نے پختونوں سے اپیل کی کہ خطے کی خوشھالی اور اپنے محفوظ مستقبل کیلئے اے این پی کے امیدواروں کے ہاتھ مضبوط کریں اور انہیں کامیاب کر کے اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل بہتر بنائیں۔