پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ حکومت قبائلی اضلاع کے انتخابات ملتوی کرانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے،الیکشن میں حصہ ضرور لیں گے، کسی کیلئے میدان خالی نہیں چھوڑیں گے، قبائلی اضلاع انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن اپنے ضابطہ اخلاق پر نظر ثانی کرے، فوجی اہلکاروں کی پولنگ سٹیشنوں کے اندر موجودگی سے الیکشن کے ساتھ ساتھ آرمی بھی بطور ادارہ ایک بار پھر متنازعہ ہو گی، 26ویں آئینی ترمیم سینیٹ سے پاس کرانے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے تاکہ جان بوجھ کر الیکشن ملتوی کیا جا سکے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں پارٹی تھنک ٹینک اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کو سیکورٹی تھرٹ بارے خط لکھنا باعث تعجب ہے، اتنے بڑے سیکورٹی خطرے کی وضاحت نہیں کی گئی اور نہ ہی آگاہ کیا گیا کہ 20دن میں اس خطرے سے کیسے نمٹا جائے گا،انہوں نے کہا کہ اے این پی کا مطالبہ ہے کہ قبائلی اضلاع میں جلد از جلد انتخابات کرائے جائیں تاکہ قبائلی عوام کے نمائندے اسمبلی میں پہپنچ کر اپنے علاقوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھا سکیں،انہوں نے بعض علاقوں میں دفعہ 144کے نفاذ کی بھی مذمت کی اور کہا کہ سیاسی سرگرمیوں پر عائد پابندی ختم کر کے امیدواروں کو کمپین چلانے دی جائے،انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن 25جولائی کی تلخ تاریخ دہرانے سے گریز کرے، اے این پی نے اس حوالے سے خط بھی تحریر کیا جس کا انتہائی منفی جواب دیا گیا،اس بار فوجی اہلکاروں کو پولنگ سٹیشنوں پر تعینات کرنے سے آرمی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑے گااور مزید سوالات اٹھیں گے،آصف علی زرداری سمیت دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کے حوالے سے انہوں نے گرفتاریوں سے انتقام کی بو آ رہی ہے، عدالتوں کا احترام کرتے ہیں لیکن مشیر اطلاعات کی آصف زرداری کی گرفتاری بارے پیشگوئی سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے، وفاقی مشیر اطلاعات کے پاس ایسی کون سی چڑیا ہے جو عدالتی فیصلوں کی قبل از وقت اطلاع دے دیتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ نیب چئرمین ویڈیو سکینڈل سے قبل اپنے اوپر دباؤ کا اقرار کر چکے تھے اور اس حوالے سے تحقیقات کے مطالبے کی بھی حکومت نے ہی مخالفت کی،انہوں نے کہا کہ نیب کو دباؤ سے آزاد ہونا چاہئے اور احتساب سب کا یکساں و بلا امتیاز ہونا چاہئے،انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ارکان کو یکے بعد دیگرے گرفتار کیا جا رہا ہے لیکن حکومتی ممبران پر تحقیقات مکمل ہونے کے باوجود ہاتھ نہیں ڈالا جا رہا، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں حکومتی وزراء کی کرپشن زبان زد عام ہے جس پر کوئی کارروائی نہیں ہو رہی اور اس کے خلاف اے این پی24جون کو پرامن مظاہرہ کرے گی جس میں نیب سے مظالبہ کیا جائے گا کہ صوبے میں ہونے والی اربوں روپے کی کرپشن کے خلاف کاروائی کی جائے۔امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی وزیرستان کے دو ایم این ایز سمیت تمام گرفتار ارکان قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کریں تاکہ ان علاقوں کی نمائندگی اسمبلی میں ہو سکے،عدالتوں سے انصاف کی توقع ہے، انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی و بدامنی کے واقعات نے سیکورٹی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے، مسلط وزیر اعظم بتائیں انہوں نے 10ماہ افغانستان کے ساتھ اعتماد کے فقدان کے خاتمے کیلئے کیا کردار ادا کیا، انہوں نے کہا کہ ماضی میں بہت خون بہہ چکا ہے اور اب مزید کسی خون بہا کے متحمل نہیں ہو سکتے، پختونوں خصوصاً اے این پی نے امن کی خاطر بڑی قیمت چکائی ہے، حکومت بتائے نیشنل ایکشن پلان کہاں ہے؟انہوں نے کہا کہ حکمران اپنی ذمہ داری قبول کریں۔مرکزی سینئر نائب صدر نے کہا کہ موجودہ وقت میں لوگوں اور ریاستی اداروں کے درمیان تلخیاں موجود ہیں جبکہ حکومت نے عوام کیلئے مصائب کے پہاڑ کھڑے کر رکھے ہیں،پارلیمنٹ میں حکمران اپوزیشن سے زیادہ احتجاج کرتی ہے،انہیں شاید یقین نہیں آ رہا کہ وہ اب کنٹینر پر نہیں حکومت میں ہیں جو انہیں انتہائی آسانی سے پلیٹ میں رکھ کر پیش کی گئی ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس بارے انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنی بد نیتی ظاہر کر دی ہے اور آئین و قانون کے دائرے میں کام کرنے والوں سے حکمرانوں کو خطرہ محسوس ہو رہا ہے، انہوں نے کہا کہ ریفرنس واپس لے کر عدالتی نظام کو دباؤ میں لانے سے گریز کیا جائے،حکومت گرانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گری ہوئی حکومت کو گرانے کی ضرورت ہے، تمام سیاسی قائدین کو مل بیٹھ کر ملک کی بقا کیلئے سوچنا چاہئے اور اس حوالے سے کسی بھی تحریک کا حصہ بنیں گے،وفاقی بجٹ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تمام شعبوں میں ترقیاتی بجٹ ضائع کر دیا گیا ہے جبکہ ریکوری اور پیداواری ہدف تک حاصل نہیں کیا جا سکا، انہوں نے کہا کہ مسلط حکومت نے دس ماہ میں 30فیصد تک روپے کو بے قدر کر دیا جو ملکی تاریخ کا بدترین ریکارڈ ہے، آخر میں انہوں نے کہا کہ یرغمال کئے جانے والے میڈیا کی آزادی کیلئے18جون کو اے این پی صحافیوں کے حقوق و آزادی اظہار پر لگی قدغنوں کے خلاف مظاہرہ کرے گی۔