پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ نئے ضم شدہ اضلاع کے انتخابات میں پولنگ اسٹیشنز کے اندر فوج کی تعیناتی انتخابی عمل میں مداخلت ہے، فوج کا کام صرف امن و امان کی ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں،اس عمل سے فوج کی بحیثیت ادارہ ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ چارسدہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے فوج کو انتخابی عمل سے دور رکھیں تاکہ ایک بار پھر پاکستان کے انتخابی عمل پر انگلیاں نہ اٹھائی جائیں۔ الیکشن کمیشن نے ووٹوں کی چھپائی سے لے کر انتخابات کے نتائج تک فوج کو ذمہ داریاں سونپ کر اپنی نااہلی ثابت کردی ہے۔ کیا الیکشن کمیشن اس بات کی وضاحت کرسکے گا کہ کیوں انہیں یہ ضرورت پیش آئی؟ پاکستان کے تمام سیاسی پارٹیاں گزشتہ انتخابات پر تحفظات رکھتی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ فوج کی انتخابی عمل میں مداخلت تھی۔ الیکشن کمیشن کو اس معاملے پر عوامی نیشنل پارٹی نے خط کے ذریعے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا لیکن افسوس کہ انہوں نے معذرت کرتے ہوئے فوج کی پولنگ اسٹیشنز کے اندر و باہر تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔ انہوں نے ایک بار الیکشن کمیشن سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر امن و امان کی صورتحال واقعی ان اضلاع میں موزوں نہیں تو فوج کو پولنگ اسٹیشنز سے باہر رکھا جائے تاکہ اندر و باہر امن و امان کی صورتحال برقرار رہے۔2018ء کے عام انتخابات میں فوج کے کردار کی وجہ سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا اور آج ایک بار پھر وہی تجربہ دہرایا جارہا ہے۔ قبائلی اضلاع میں انتخابات کے حوالے سے ایمل ولی خان نے کہا کہ ایک دفعہ تاریخ دے کر آئینی ترمیم لائی گئی جس سے انتخابات میں تاخیر کی کوشش کی گئی لیکن آج تک اس قانون کو سینیٹ سے پاس نہیں کرایا گیا۔ دوسری جانب صوبائی حکومت نے اپنی نااہلی ثابت کرتے ہوئے ضم شدہ اضلاع میں انتخابات کے تاخیر کے لئے خط لکھا۔ عجیب منطق یہ پیش کیا گیا کہ 18یا 20دنوں تک امن و امان کی صورتحال کی خرابی کا بہانا بنایا گیا کیا وہ ان دنوں میں ہمسایہ ممالک کی جانب سے موجود خطرات کو کنٹرل کرسکیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ صوبائی حکومت انتخابات میں دھاندلی کی منصوبہ بندی کرچکی ہے۔انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے پہلے ہی سیلیکٹڈ وزیراعظم آرمی چیف اور وزراء سمیت ان سات اضلاع کا دورہ کرکے وہاں اعلانات کرچکے ہیں جو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ دو مہینے بعد معذرت آیا کہ امن و امان کی صورتحال کے لئے فوج کو پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر رکھا جائیگا۔ضم شدہ اضلاع میں موجودہ حالات کے بارے میں ایمل ولی خان نے کہا کہ دفعہ 144یا کرفیو میں انتخابات نہیں ہوسکتے، آج بھی شمالی وزیرستان میں کرفیو جبکہ جنوبی وزیرستان میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ کل ہی جنوبی وزیرستان میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار سمیت دیگر اراکین پر ریلی نکالنے پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے، حکومت اور انتظامیہ بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ ایک طرف ہمارے کارکنان پر پرچے درج ہورہے ہیں لیکن دوسری طرف پی ٹی آئی کے امیدواران کے ساتھ باوردی لوگ انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں اور بڑے بڑے جلسے بھی کررہے ہیں، کیا کرفیو اور دفعہ 144 ہمارے لئے ہیں، پی ٹی آئی کے امیدواران کو کلی چوٹ اور اداروں کی حمایت حاصل ہے۔ ہمارے دو عہدیداران ایاز وزیر اور عزیزاللہ خان کو گرفتار کیا گیا، یہ تمام اقدامات کیا پیغام دے رہی ہیں؟ کیا الیکشن میں پری پول دھاندلی اور دوسرے امیدواران کو انتخابی کمپیئن سے روکنے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے؟ ہمیں کرفیو یا دفعہ 144سے نہیں ڈرایا جاسکتا۔ انہوں نے ضم شدہ اضلاع میں خود جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہ وہ خود انتخابی مہم کے لئے تمام اضلاع کا دورہ کریں گے، کرفیویا دفعہ 144 سے ڈرنے والے نہیں۔ان اضلاع میں انتخابی ریلی کا انعقاد کرکے خود قیادت کریں گے اور کسی کو اپنا مینڈیٹ چوری کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس بار 25جولائی 2018ء کی تاریخ دہرانے نہیں دیں گے۔پاکستان میں ووٹر صرف ووٹ نہیں ڈالیں گے بلکہ اس بار ووٹ کی حفاظت بھی کریں گے۔الیکشن کمیشن کے کردار کے حوالے سے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ وزیراعظم، وفاقی و صوبائی وزراء اور قومی و صوبائی اسمبلی اراکین کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی دھچیاں اڑائی جارہی ہیں، وزیراعلیٰ نے دو دن پہلے قبائلی نوجوانوں کے لئے روزگار کے نام پر پری پول دھاندلی کی گئی، صوبائی وزیرسیاحت نے کرم کا دورہ کیا، الیکشن کمیشن کو اس حوالے سے ایک خط بھی لکھا جاچکا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے آئینی اختیار کو پوری طرح استعمال کریں گے۔پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسی کے حوالے سے ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دس مہینوں میں روپے کی قیمت میں 41فیصد کمی ہوئی۔ آج پاکستان کی معیشت آئی ایم ایف کے ہاتھوں میں ہیں۔ آج پاکستان کے اکنامک ایڈوائزر کو مشورے آئی ایم ایف کے ایڈوائزرز دے رہے ہیں۔وفاقی بجٹ ہو یا صوبائی بجٹ، دونوں میں صرف سرمایہ داروں اور حکمران طبقے کو ریلیف دیا گیا ہے۔ عمران خان کی حکومت غربت کو ختم کرنے کے دعوے کئے لیکن یہاں غربت نہیں غریب کو ختم کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔میثاق معیشت پر بات کرتے ہوئے ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ انہیں معیشت کی بحالی کا کوئی امکاننظر نہیں آرہا،خدا کرے کہ معیشت دوبارہ بحال ہو لیکن پی ٹی آئی کی حکومت جس طرف جارہی ہے، عوام کو مزید غربت کی چکی میں پسایا جائیگا۔اقتدار میں آنے سے پہلے دو سو ارب ڈالر ملک لانے والے کہیں نظر نہیں آرہے، ایک کروڑ نوکریاں دینے والوں نے لوگوں سے روزگار چھین لیا ہے۔ آج افغانستان معاشی طور پرپاکستان سے آگے ہے۔میڈیا پر پابندی کے حوالے سے ایمل ولی خان نے کہا کہ اس وقت غیراعلانیہ طور پر میڈیا پر سنسرشپ لگائی گئی ہے۔غیرجانبدارانہ صحافت کی کسی کو اجازت نہیں اور اسی لئے ہم نے 18جون کو میڈیا کی آزادی کے لئے آواز اٹھائی لیکن افسوس کہ میڈیا ورکرز بھی اپنے لئے آواز نہیں اٹھاسکتے۔حامدمیر کمیشن سے لے کر آج تک صحافیوں پر جتنے قاتلانہ حملے ہوئے یا شہید کئے گئے، کسی کی انکوائری کمیشن کی رپورٹ شائع نہیں کی گئی نہ ہی کسی قاتل یا حملہ آور کا پتہ لگایا گیا۔ پاکستان میں جمہوریت تب ترقی کی جانب گامزن ہوگا جب میڈیا آزاد ہو۔پابند میڈیا چھوٹے قومیتوں کی نمائندگی نہیں کرسکتا۔پاکستان میں ایک خاص ادارہ میڈیا کنٹرول کررہا ہے۔ اگر پاکستان میں میڈیا آزاد ہوتا تو وزیرستان خڑکمر جیسے واقعات رونما نہ ہوتے۔ کیا میڈیا کو اتنی آزادی مل سکتی ہے کہ وہ وزیرستان جاکر ان 13شہداء کے خاندانوں سے بات کرسکے تاکہ عوام تک حقیقت پہنچائی جاسکیں کہ گولیاں کس نے چلائی اور جس نے بھی ظلم کیا اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ میڈیا میں دونوں طرف کے نقطہ نظر کو سامنے لایا جائے تب ہی معلوم ہوگا کہ کون کس کا ایجنٹ ہے کس کو کہاں سے پیسہ مل رہا ہے۔ اگر کسی کے آواز کو دبایا جائیگا اور یک طرفہ رپورٹنگ ہوگی تو عوام میں مایوسی پھیلے گی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس ملک میں باچاخان، ولی خان، اسفندیارولی خان اور ایمل ولی خان سمیت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کا جتنا میڈیا ٹرائل کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی لیکن ہم میڈیا کی آزادی کے لئے آواز اٹھاتے رہیں گے۔اگر پاکستان میں میڈیا آزاد ہو تو حقیقی نمائندے بھی سامنے آئیں گے کیونکہ عوام کے اذہان کو میڈیا ہی بناتا ہے۔ آج میڈیا میں صرف ایک جماعت کو فرشتہ و پارسا پیش کیا جارہا ہے جبکہ دوسرے تمام لیڈران کو کرپٹ پیش کیا جارہا ہے۔میڈیا میں سنسرشپ کا حال یہ ہے کہ کوئی آرٹیکل یا خبرایک ادارے کی منظوری کے بغیر شائع نہیں ہوسکتا۔ففتھ جنریشن وار کے نام پر سوشل میڈیا پر بھی جنگ سا ماحول بنایا گیا ہے۔قومی احتساب بیورو کے کردار کے حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ 24جون کو نیب پشاور کے دفتر کے باہر نیب کے جانبدارانہ رویے اور پی ٹی آئی کی کرپشن پر خاموشی کے خلاف احتجاج کریں گے، پنجاب، سندھ،بلوچستان اور وفاق میں احتسابی عمل جاری ہے لیکن خیبرپختونخوا میں نیب نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔بی آرٹی سے متعلق آڈیٹرجنرل کی رپورٹ سب کے سامنے آچکی ہے پھر بھی نیب خاموش تماشائی بیٹھا ہوا ہے۔بلین ٹری سونامی میں کرپشن کی داستانیں رقم کی گئی ہیں۔ ہمارے احتجاج کا سن کر صوبائی حکومت نے پہاڑوں پر آگ لگایا تاکہ اپنی کرپشن کو چھپاسکیں لیکن عوامی طاقت کے ذریعے ہم کرپٹ لوگوں کو احتساب کریں گے۔ عوام کے ٹیکس کا پیسہ چوری نہیں ہونے دیں گے۔صوبائی احتساب کمیشن صرف عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کو بدنام کرنے کے لئے بنایا گیا تھا لیکن ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ان کا نام نہاد ادارہ بھی عوامی نیشل پارٹی کے کسی عہدیدار یا رہنما پر ایک پائی کرپشن ثابت نہ کرسکی۔ہمارا احتجاج کسی ایک شخص یا ذاتی مفاد کے لئے نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے عوام کا پیسہ چوری کرنے والوں کے احتساب کے لئے ہے۔ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ موجودہ صوبائی وزراء اور اسپیکرقومی اسمبلی پر کرپشن کے الزامات موجود ہیں لیکن نیبکی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی جارہی۔ شاید احتساب کا نعرہ صرف اپوزیشن اراکین کے لئے لگایا جارہا ہے۔ پی ٹی آئی کے مخالف جماعتوں کے رہنماؤں و اراکین کو صرف الزامات کی بنیاد پر گرفتار کیا جاسکتا ہے تو حکومتی اراکین کے خلاف عدالتی ریفرنسز کیوں دائر نہیں کئے جارہے؟چارسدہ کے علاقہ عمرزئی میں تہرے قتل سے متعلق ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ قاتلوں کا ان سے کوئی تعلق ہے نہ ہی وہ عوامی نیشنل پارٹی کا حصہ ہے، پورے چارسدہ کے علم میں ہیں کہ ان کا تعلق کس سیاسی جماعت سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارا اپنا بھی اس قتل میں ملوث ہوتا تو وہ اس کے خلاف نکلتے۔مرکزی ملزم ابھی بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے،۔ ایمل ولی خان نے آئی جی خیبرپختونخوا ڈاکٹرنعیم سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی ملزم فرار کرانے میں سہولت کار کا کردار ادا کرنیوالے ڈی پی او چارسدہ، ضلعی ناظم اعلیٰ اور چارسدہ سے منتخب ایم این اے کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کرائی جائے۔ تحقیقات تک ان کو اپنے عہدوں سے معطل کیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔اٹھارویں ترمیم سے متعلق بات کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کو عوامی نیشنل پارٹی کا شکرگزارہونا چاہئے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کی وجہ سے انہیں آج اربوں روپے مل رہے ہیں، ان کی نااہلی کہ وجہ سے وہ گزشتہ دور حکومت میں سالانہ بجٹ بھی خرچ نہیں کرسکے۔ اسپیکر قومی اسمبلی صوابی یونیورسٹی کا کریڈٹ لیتے ہوئے شاید بھول گئے ہیں کہ اے این پی کے دورحکومت میں یہی جامعات و دیگر تعلیمی ادارے بنے ہیں۔افغانستان بارے ایک سال کے جواب میں ایمل ولی خان نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ہر اس کوشش یا اقدام کی حمایت کرتی ہے جو افغانستان حکومت کی میں اس خطے کے امن کے لئے اٹھائی جائیگی۔