پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے جنوبی وزیرستان میں اے این پی کے انتخابی دفتر پر چھاپے اور پارٹی عہدیداروں و کارکنوں کی بلا جواز گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے قبائل میں انتخابی مہم کے دوران پری پول رگنگ پر الیکشن کمیشن نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دفعہ144کا بہانہ بنا کر غیر قانونی چھاپے سیاسی مخالفین کودیوار سے لگانے کی کوشش ہے،اے این پی حکومتی چیرہ دستیوں کے خلاف انتہائی اقدام سے گریز نہیں کرے گی،الیکشن کمیشن کٹھ پتلی اور خاموش تماشائی بن چکا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے امیدواروں کیلئے سرکاری مشینری استعمال کر کے خطرناک کھیل کھیل رہی ہے، لاڈلے کے امیدوار کھلے عام انتخابی مہم چلا رہے ہیں جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو پابند سلاسل کر کے اپنے لئے راہ ہموار کی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ اے این پی ڈر اور خوف کی بجائے ڈٹ کر مقابلہ کرے گی، الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق کی پابندی پر عملدرآمد یقینی بنائے،انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہے تو چیف الیکشن کمشنر کو فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہئے، انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکنان کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے، ڈر اور خوف کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، بتایا جائے چھاپے اور گرفتاریاں کیوں کی جارہی ہیں؟ کارکنوں کی گرفتاریاں قبل ازوقت انتخابات اور دھاندلی ہے۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ اس سارے معاملے پر الیکشن کمیشن کی خاموشی معنی خیز ہے،پہلے سیاسی جماعتوں کے اعتراضات کے باوجود الیکشن کمیشن نے فوج کو بیلٹ پیپرز کی چھپائی سے انتخابی ذمہ داریاں فوج کے حوالے کیں اور اب دفعہ 144کے نام پر مخالف سیاسی جماعتوں کے لوگوں کو قید کیا جا رہا ہے، ان حالات میں شفاف الیکشن کیسے ممکن ہے؟انہوں نے کہا کہ ان تمام کاروائیوں سے قبائل کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ انضمام کی کوئی حیثیت نہیں اور اُن کیلئے پرانا نظام ہی بہتر تھا، انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر قبائل کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہونگے،جس کی تمام ذمہ داری الیکشن کمیشن، حکومت وقت اور مقتدر قوتوں پر ہوگی،انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے لوگوں کو تشدد پر اکساتی ہے اور پھر ان پر غداری کا لیبل لگا کر خاموش کرانے کیلئے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے کوئی اقدام اٹھانا چاہئیے۔ ہماری تاریخ گرفتاریوں اور قربانیوں سے بھری پڑی ہے، ہندوستان چھوڑ دو تحریک میں 22ہزار خدائی خدمتگاروں نے خود کو گرفتاری کے لئے پیش کیا تھا لیکن اپنے مقصد سے نہیں ہٹے۔ آج بھی مقتدر قوتیں اور حکومت سامراجی فکر کو پروان چڑھارہی ہیں لیکن ہم نہ پہلے گرفتاریوں سے مرعوب ہوئے ہیں اور نہ اب ہوں گے، انہوں نے کہا کہ ہم عدم تشدد کے فلسفے کے ماننے والے ہیں لہذا ہمیں انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے اور اے این پی کے عہدیداروں و کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔