پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع میں اے این پی کیلئے کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہمارا راستہ نہیں روک سکتیں، انہوں نے کہا کہ حکومت کو خطرہ صرف اے این پی اور باچا خان کے پیروکاروں سے ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے حلقہ پی کے100ضلع باجوڑ میں انتخابی مہم کے دوران جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے بھی خطاب کیا،انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں اے این پی کیلئے کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہمارا راستہ نہیں روک سکتیں، انہوں نے کہا کہ حکومت کو خطرہ صرف اے این پی اور باچا خان کے پیروکاروں سے ہے،انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کا انضمام ہو چکا ہے لیکن آج بھی ایف سی آر مختلف صورتوں میں موجود ہے،صرف پولیٹکل ایجنٹ کی جگی ڈی سی بٹھا دیا گیا ہے،تمام قبائلی اضلاع کو وہ قانون دیا جائے جو اسلام آباد اور لاہور میں رائج ہے، یہاں بدقسمتی سے اعلان کر دیا گیا کہ تمام خاصہ داروں کو پولیس میں بھیج دیا گیا ہے،حالانکہ انہیں پولیس کی مراعات حاصل نہیں، عملی طور پر کچھ نہیں ہوا،انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کو انصاف کی فراہمی کیلئے عدالتیں قائم کی جائیں،سکول،کالج اور ہسپتال قائم کئے جائیں تاکہ اکیسویں صدی میں قبائلی عوام بنیادی انسانی ضروریات سے مستفید ہو سکیں،71سال سے ملک ایک دوراہے پر کھڑا ہے جس میں صرف پختونوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ ریاست مظالم کا سلسلہ ختم کر کے پختونوں کا وجود تسلیم کرنا ہو گا، انہوں نے کہا کہ حکومت نے نام نہاد پختون وزراء کو پختونوں کے خلاف استعمال کرنے کیلئے پال رکھا ہے، ایمل ولی خان نے کہا کہ نا اہل، نا لائق اور سلیکٹڈ حکمرانوں نے ملک کو دیوالیہ کر کے تباہی کے کنارے پہنچا دیا ہے، انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ دراصل سلیکٹرز کی چڑ ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت کی حیثیت ریت کی بوری جیسی ہے،تباہی کی ذمہ دار بوری کے موجود قوتیں ہیں،انہوں نے کہا کہ غلط پالیسیوں نے عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے،عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر ساڑھے گیارہ ارب روپیہ دفاعی بجٹ کیلئے رکھ دیا گیا،جبکہ مہنگائی سے عوام کا جینا مشکل ہو چکا ہے، دس ماہ میں اربوں روپے کے لئے گئے قرضوں کا کوئی نام ونشان نظر نہیں آ رہا،پی ٹی آئی کو اگر1947میں اقتدار دیا جاتا تو وہ پھر بھی یہی کہتے کہ ملک انگریز کھا گئے،تمام چوروں کو ڈرائی کلین کر پارٹی میں شامل کر لیا گیا، انہوں نے کہا کہ عمران خان موت کا فرشتہ بن کر آیا ہے، انہوں نے کہا کہ پختون مزید غلامی تسلیم نہیں کریں گے،قبائلی الیکشن میں کامیابی کے بعد نئے اضلاع کی ترقی پر توجہ دی جائے گی۔
جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سردار حسین بابک نے کہا کہ گزشتہ سال کی طرح قبائلی الیکشن میں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے، انہوں نے کہا کہ اس بار پختون ووٹ دالنے کے ساتھ ساتھ ووٹ کی حفاظت بھی کریں گے، انہوں نے کہا کہ حکومت نے صوبے کو معاشی بدحالی کے سوا کچھ نہیں دیا، افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارت کی بندش پختونوں کو ترقی سے روکنے کی سازش ہے،انہوں نے کہا کہ برآمدات میں کمی کا رونا رونے والوں نے پاک افغان تجارت روک رکھی ہے جس کا بڑا نقصان پختونوں کو ہو رہا ہے، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت چکائی ہے اور اب وقت آ چکا ہے کہ قبائلی اضلاع میں کامیابی کے بعد ہم قبائلیوں کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے، انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام بہتر مستقبل کیلئے اے این پی کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کریں۔