پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اور دھرتی پر قیام امن کیلئے اے این پی کی قربانیاں تاریخ کا انمٹ باب ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات نے قوم کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مچنی ضلع مومند میں اے این پی کے امیدوار نثار خان مہمند کی انتخابی مہم کے دوران ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ ہم نے قربانیاں دی ہیں لیکن قوم کے حقوق سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے،ہمیں پیغام دیا گیا کہ میدان چھوڑ دیں لیکن ہم نے قوم کی بقاء کی خاطر دہشتگردوں سے مقابلہ کیا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ باچا خان کے عدم تشدد کی پالیسی کو لیکر ہم دہشتگردی کے خلاف لڑے،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اے این پی سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئی اور اگر باچا خان کے سپاہی نہ ہوتے تو آج پاکستان میں دہشتگردوں کی حکومت ہوتی،انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے موجودہ حکمران طالبان کے ترجمان ہیں اور ایک زمانے میں کپتان انہیں دفتر کی پیشکش کر رہا تھا،انہوں نے کہا کہ اگر دہشتگردی آج بھی کسی صورت میں ہورہی ہے تو اس کی بڑی وجہ عمران خان ہے،آج اگر ملک میں کچھ حد تک امن قائم ہے تو اس کا کریڈٹ اے این پی کو جاتا ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے سب سے پہلے فاٹا انضمام کیلئے آواز اٹھائی اور فاٹا انضمام کو عملی طور پر یقینی بنایا،انہوں نے کہا کہ اے این پی کی کاوشوں کے نتیجے میں خیبر پختونخوا اور قبائل کے درمیان لکیر مٹ چکی ہے اور قبائل صوبے کا حصہ بن چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ اتنی کوششوں کے باوجود عمران خان این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کو اس کا حصہ دینے سے کترا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ قبائل انضمام کے بعد اب بلوچستان کے پختونوں کو ایک کرینگے اور پختونوں کی ایک وحدت قائم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے این ایف سی میں فاٹا میں کیلئے 3 فیصد حصہ مختص کرنے کا مطالبہ کیا تھا اوروزارتوں میں فاٹا کیلئے مخصوص کوٹہ مختص کرنے کا مطالبہ بھی اے این پی کا تھا، انہوں نے کہا کہ اے این پی مزدوروں،محنت کشوں،مظلوموں کی جماعت ہے،ہم عدم تشدد کے راستے پر کاربند رہتے ہوئے اپنے حقوق کیلئے کوشاں رہنگے، انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام اپنے بہتر مستقبل کیلئے اے این پی کو کامیاب کریں۔