پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ ملک میں احتساب کا دوہرا نظام رائج ہے، بات احتساب سے شروع ہو کر منشیات تک پہنچ چکی ہے جس شخص کو پہلے سے گرفتاری کا علم تھا وہ منشیات لے کر کیسے گھوم سکتا ہے،نواز شریف کی بیٹی اور آصف زرداری کی بہن کو جے آئی ٹی میں بلانے والوں نے عمران خان کی بہن کو ایف بی آر میں جرمانہ کر کے کیوں چھوڑ دیا؟ان خیالات کا اظہار انہوں نے ولی باغ چارسدہ میں قبائلی اضلاع انتخابات کے حوالے سے پارٹی رہنماؤں سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا، انہوں نے قبائلی انتخابات میں اب تک ہونے والی انتخابی مہم پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اے این پی ہمیشہ سے انگریز کی کھینچی گئی لیکر مٹانے کیلئے کوششیں کرتی رہی اور بالآخر اس میں کامیاب ہوئی، انہوں نے کہا کہ انضمام کے بعد اب اگلے قدم کے طور پر بلوچستان کے پختونوں کو یکجا کیا جائے گا اور پختونوں کی ایک وحدت قائم کریں گے، انہوں نے کہا کہ انضمام کے باوجود بدقسمتی سے قبائلی عوام بے اختیار ہیں اور پنجاب کے لوگ کروڑوں کی معدنیات پر قابض ہیں، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہماری جنگ وسائل پر اختیار کیلئے ہے اور ہمیشہ جنگ کیلئے میدان عمل میں موجود رہیں گے، انہوں نے کہا کہ قبائلی ممبران اسمبلی گونگے بہرے بن کر اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں جنہوں نے کبھی قبائلی عوام کے مسائل پر بات نہیں کی، انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ سوچ اور نظریے کے خلاف ہے، انہوں نے عمران خان کو مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ حلفیہ اس بات کا اقرار کریں گے کہ کس کے اثاثوں میں اضافہ ہوا،انہوں نے کہا کہ جس شخص کے والد کو کرپشن پر سرکاری نوکری سے نکالا گیا تھا وہ وراثت میں اربوں کا مالک کیسے بن گیا ہے؟ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ میرے خلاف دبئی اور ملائشیا کی جائیدادوں کا واویلا کرنے والے کپتان کی اپنی بہن کی اربوں روپے کی جائیدادیں نکل آئیں،انہوں نے کہا کہ ہم باچا خان کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچیں گے،مرکزی صدر نے کہا کہ ہمارا صرف یہی مطالبہ تھا کہ ہمارے بچوں کو کلاشنکوف اور ہتھیار کی بجائے قلم اور کتاب دی جائے تاکہ وہ علم کی روشنی سے منور ہو کر دنیا کا مقابلہ کر سکیں، انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم نے سیاست میں گالی کو فروغ دیا اور بنی گالہ میں تمام کرپٹ مافیا کو ڈرائی کلین کر کے اپنی جماعت میں شامل کر لیا، انہوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ سابق حکومتوں کو چور اور ڈاکو کہنے والے شخص نے انہی جماعتوں سے چوروں کو اپنے ساتھ ملایا،مشرف اور زرداری کے گھٹنوں کو چھونے والی ایک خاتون آج عمران خان کی مشیر اطلاعات ہے، انہوں نے کہا کہ بات اب منشیات تک پہنچ گئی ہے،رانا ثنا اللہ کو اپنی گرفتاری کا پہلے سے علم تھا تو وہ منشیات لے کر کیسے گھوم رہے تھے؟انہوں نے کہا کہ اے این پی بلا امتیاز احتساب کے حق میں ہے اور احتساب ایسا ہو جس سے انتقام کی بو نہ آئے، انہوں نے کہا کہ کپتان یاد رکھے کہ مکافات عمل ہوتا ہے، قانون ایسا نہ بنائے کہ کل کو خود کو بچا نہ سکے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی عروج پر ہے اور وزیر اعظم قوم کو تسلیاں دے رہا ہے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم اپنی بیٹی اور بیٹوں کو پاکستان لا کر پہاڑوں میں آباد کرے تو ہم مان جائیں گے کہ وہ پاکستان سے مخلص ہیں۔