ختونوں بالخصوص قبائلی عوام کو درپیش مشکلات میں تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔
سیکورٹی کے نام پر شمالی وزیرستان میں داخلے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔
باچا خان کے سپاہی ہیں، قبائلی عوام کی خاطر سر پر کفن باندھ کر نکلے ہیں۔
تاج وزیر پر حملہ کر کے اے این پی کو دیوار سے لگانے کی پریکٹس دہرائی گئی۔
عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو صورتحال خطرناک طرف جائے گی۔
بیٹے کی شہادت کے باوجود اپنے اکابرین کا مشن نہیں چھوڑ سکتا۔پارٹی عہدیداروں سے بات چیت

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ قبائلی انتخابات میں اے این پی کو دیوار سے لگانے کی پریکٹس دہرائی گئی،مارنے والے جان رکھیں،باچا خان کے سپاہی حقوق کی جنگ میں میدان خالی نہیں چھوڑیں گے، شمالی وزیرستان کا دورہ جان ہتھیلی پر رکھ کیا ہے،پختونوں بالخصوص قبائلی عوام کو درپیش مشکلات میں تنہا نہیں چھوڑ سکتے، شمالی وزرستان کی تحصیلوں میر علی اور میرانشاہ میں انتخابی جلسوں کے بعد پشاور واپس پہنچنے پر پارٹی عہدیداروں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے اے این پی کے امیدوار تاج وزیر پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی اور کہا کہ قبائلی اضلاع انتخابات کیلئے حکومت خود حالات خراب کر رہی ہے، امیدواروں کو سیکورٹی دینے کی بجائے آیت الکرسی کی تلقین کی جا تی رہی ہے، انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کے حوالے سے خدشات و تحفظات موجود ہیں، تمام انتخابی امیدواروں کو سیکورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے،انہوں نے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا نقصان کی ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ پر ہو گی،میاں افتخار حسین نے کہا کہ سیکورٹی کے نام پر شمالی وزیرستان میں داخلے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی لیکن ہم میدان میں نکلے ہیں اور قبائلی عوام کی جدوجہد میں انہیں تنہا نہیں چھوڑ سکتے، انہوں نے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں کسی سیاسی جماعت کو داخلے کی اجازت نہیں تھی تاہم خود کو پختونوں سے الگ تھلگ نہیں رکھ سکتے اور ان کے حقوق کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم باچا خان کے سپاہی ہیں اور قبائلی عوام کی خاطر سر پر کفن باندھ کر نکلے ہیں، قبائلی عوام 20جولائی کو اے این پی کے امیدواروں کے حق میں ووٹ دے کر اپنا مستقبل سنوار سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکمران اے این پی کی مقبولیت سے خائف ہیں اور وہ الیکشن میں دھاندلی کیلئے ہر حربہ استعمال کرنے پر تلے ہوئے ہیں، میاں افتخار حسین نے خبردار کیا کہ قبائلی انتخابات میں گزشتہ سال 25جولائی کی طرح عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو صورتحال خطرناک طرف جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ریاست ہمارے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے نمک پاشی کر رہی ہے، جو کسی طور نیک شگون نہیں، ریاست کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ50سال سے پختونوں کے خلاف گھٹیا حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔
میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ ہر الیکشن سے قبل اے این پی کیلئے خطرے کا الارم بجا دیا جاتا ہے، دراصل مخصوص طاقتوں کو اے این پی کی مقبولیت اور قوت سے خطرہ ہے، ہم حق کی آواز اٹھاتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے کو شہید کر دیا گیا لیکن باچا خان کا سپاہی ہونے کے ناطے مجھے اپنے اکابرین کے مشن سے کوئی نہیں ہٹا سکا۔انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام اپنے بہتر مستقبل کی خاطر اے این پی کے حق میں ووٹ کا استعمال کریں۔