پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن کا کامیابی یقینی ہے اور آئندہ چند روز میں حاصل بزنجو چیئرمین سینیٹ ہونگے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے رہبر کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کیلئے اسلام آباد روانگی سے قبل باچا خان مرکز پشاور میں پارٹی عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک حکومت کے خاتمے تک مختلف مراحل میں جاری رہے گی،عوام کی مشکلات میں کمی کا واحد حل حکومت سے نجات میں ہے،انہوں نے کہا کہ ملک میں نئے انتخابات کرا کے اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کیا جائے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہمارا ارادہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین خود تمام صوبائی ہیڈکوارٹرز کا دور کریں اور حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں اور ملک کی مجموعی تشویشناک صورتحال پر عوام کو اعتماد میں لیں۔
ملک بھر میں حالیہ بارشوں،طغیانی اور دیگر واقعات میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ سیلاب جیسی قدرتی آفات سے مقابلہ کرنا انسان کے بس میں نہیں،دنیا بھر میں ایسی صورتحال پیش آتی رہتی ہیں تاہم اس نازک موقع پر کسی کو بھی پوائنٹ سکورنگ سے اجتناب کرتے ہوئے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنا چاہئے،انہوں نے کہا کہ 2010میں خیبر پختونخوا میں آنے والے سیلاب سے لاکھوں روپے کی املاک کو نقصان پہنچا جبکہ بیشتر قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں جس سے نمٹنے کیلئے اے این پی نے دن رات کام کیا اور مشکلات میں گھرے لوگوں کو بچانے کیلئے حتی الوسع کوششیں کیں،اس کے باوجود ہم پر تنقید کے نشتر چلائے گئے،انہوں نے کہا کہ آج ایک بار پھر محکمہ موسمیات کی جانب سے سیلاب کی پیش گوٗی کی گئی ہے لہٰذا ایسے وقت میں سب کو مل کر سیاسی وابستگیوں سے قطع نظر مشکل صورتحال سے نمٹنے کیلئے کام کرنا چاہئے،
دہشت گردی کی حالیہ لہر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے دعوے آئے روز کئے جا رہے ہیں لیکن کچھ عرصہ کے دوران،باجوڑ،پشاور میں سرتاج خان کی شہادت،سوات،ڈی آئی خان،وزیرستان اور بلوچستان میں آرمی جوانوں پر ایک ہی روز حملے اور پھر کوئٹہ میں پولیس پر دہشتگردی کی کاروائیوں نے کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں، انہوں نے کہا کہ ان تمام واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ دہشتگرد منظم ہو چکے ہیں اور وہ جب جہاں چاہیں اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی کاروائیوں میں شدت اس لئے محسوس نہیں ہو رہی کیونکہ صورتحال بدل چکی ہے اور حکومت میں بھی دہشت گردوں کیلئے سافٹ کارنر موجود ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران خان خود طالبانائزیشن کے حق میں رہے جبکہ ان کے وزراء کے کالعدم تنظیموں کے ساتھ روابط بھی ریکارڈ پر ہیں،انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ہر بار صرف امریکہ کے دباؤ یا اسے خوش کرنے کیلئے حافظ سعید کو کیوں گرفتار کیا جاتا ہے،اگر حافظ سعید دہشت گرد ہے تو حکومت نے اسے کھلی چھٹی کیوں دے رکھی ہے؟انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 70سے زائد کالعدم تنظیمیں سرگرم ہیں، ملک غلط پالیسیوں کے باعث پہلے ہی گرے لسٹ میں ہے،دوغلی پالیسیوں نے ملک وقوم کو نقصان پہنچایا ہے،انہوں نے کہا کہ اے پی ایس سانحے کے بعد پوری قوم ایک متفقہ20نکاتی دستاویز پر متفق ہوئی لیکن بدقسمتی سے ہمیشہ اس معاملے پر مصلحت سے کام لیا گیا، انہوں نے کہا کہ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر من وعن عملدرآمد میں کون رکاوٹ ہے،تاکہ متافقہ کوششوں کے ذریعے اس رکاوٹ کو دور کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے نتیجے میں ملک خانہ جنگی کی طرف جائے گا۔