عمران خان کا اپوزیشن اور عوام کے ساتھ رویہ دشمنوں جیسا ہے
ملک کی موجودہ صورت حال ابتر ہے، سیلیکٹڈ وزیر اعظم اسٹیبلشمنٹ کے پے رول پر ہے۔
قبائلی اضلاع الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ 25 جولائی 2018 والی تاریخ دہرانے جا رہی ہے۔
دھاندلی کسی صورت میں ملک، قوم، جمہوریت اور وفاقکے مفاد میں نہیں ہے
اسٹیبلشمنٹ کی قیادت جانے کے بعد عمران خان کوحساب دینا ہو گا
موجودہ ملٹری قیادت اس حد تک عمران خان کی حمایت نہ کرے کہ ملک تباہی کی طرف
چلا جائے 
اس وقت پاکستان میں میڈیا پر قدغن ہے،وزیر اطلاعات نام نہاد ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
میڈیا کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ 
پہلے فوج خود آتی تھی، اب اس نے اپنی جماعت تحریک انصاف بنا لی ہے 
قوم کے حقوق، آزادی کو سلب کیا جا رہا ہے، یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے 
صحافیوں کو قتل اور جیل میں ڈالنے کی دھمکی دی جا رہے ہے۔
عدلیہ سمیت تمام ادارے مفلوج ہیں،صرف اسٹیبلشمنٹ بااختیار ہے۔
ہم 1971 کی طرف بڑھ رہے ہیں،جب ملک دو لخت ہوا،یہ ملک کے خلاف سازش ہے۔
انتظامیہ کی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کے باوجود وزیرستان میں پہلی بار اے این پی نے جلسہ کیا۔