2019 July حکومت کی ملک دشمن پالیسیاں بلیک لسٹ کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہیں، میاں افتخار حسین

حکومت کی ملک دشمن پالیسیاں بلیک لسٹ کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہیں، میاں افتخار حسین

حکومت کی ملک دشمن پالیسیاں بلیک لسٹ کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہیں، میاں افتخار حسین

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ابھی تک ملک گرے لسٹ سے نہیں نکلا اور حکمرانوں کی ملک دشمن پالیسیاں بلیک لسٹ کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہیں، رنجیت سنگھ کو ہیرو کے طور پر پیش کر کے کس کو خوش کیا جا رہا ہے؟ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں مجلس وحدت المسلمین کی جانب سے”خطے کی بدلتی صورتحال اور پاکستان کا کردار“ کے موضوع پر منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارا وزیر اعظم مودی کا نام لئے بغیر ناشتہ نہیں کرتا، پنجاب میں بسنے والوں اور بھارت میں آباد سکھوں کو خوش کرنے کیلئے رنجیت کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، قلعہ بالاحصار میں پاکستان کا ستیا ناس کرنے والے رنجیت سنگھ کا مجسمہ نصب کر کے کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟، انہوں نے کہا کہ رنجیت سنگھ ہمارے خلاف لڑا اور انگریز نے اسے شکست دی،انہوں نے کہا کہ خدارا ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جس سے نفرتوں کو تقویت ملے کیونکہ بات اب بہت آگے بڑھ چکی ہے،انہوں نے کہا کہ خطے میں پاکستان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور ہم معاشی طور پر ڈیفالٹر ہو چکے ہیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک کو بچانے کیلئے معاشی معاہدوں کی ضرورت ہے اور یہ معاہدے حکومتی سطح پر نہیں بلکہ ریاست کی سطھ پر ہونے چاہئیں،انہوں نے کہا کہ ریاست ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر متفقہ معاشی معاہدے کرے، موجودہ نازک صورتحال میں اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی، ملکی اور انفرادی سطح پر ہونے والے دہشت گردی کے منافع بخش کاروبار کا قلع قمع کر کے انسانیت کے کاروبار کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ہم اپنا دفاع ممکن بنا سکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ مثبت کردار ادا کر کے ہی امریکہ، چین روس اور اقوام متحدہ سے بات کی جا سکتی ہے۔ پاکستان مضبوط ہوگا تو عالمی امن کے لیے کردار ادا کرسکتا ہے، ہمیں دو رخی پالیسی کو ترک کرکے واضح خارجہ پالیسی دینا ہوگی۔ ماضی میں خطے میں روس اور امریکہ کے مفادات کی جنگ نے پاکستان کو نقصان پہنچایا۔امریکی ایران صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکہ سپر پاور ہونے کے ناطے اپنی دھونس بٹھانا چاہتا ہے لیکن ایران اب مزید پابندیاں برداشت نہیں کر سکتا، انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، شام،عراق اور لیبیا کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں، ایران کو چاہئے کہ وہ اس پیچیدہ صورتحال میں اپنے تمام دوست ممالک کے ساتھ مراسم بہتر بنائے۔

شیئر کریں