پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ تبدیلی والوں نے اے ڈی پی سے800سکولوں کو نکال کر تعلیم دشمن ہونے کا ثبوت دے دیا ہے اور اب ان کی بدنیتی میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہا، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تعلیمی ایمرجنسی کے نام پر تعلیم کے خلاف اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ تعلیمی بجٹ میں 5ارب روپے کی کمی انتہائی قابل افسوس ہے، انہوں نے کہا کہ تعلیم کا فروغ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے،سالانہ ترقیاتی پروگرام سے 8سو رواں منصوبوں کو ختم حکومت کی تعلیم دشمنی کی اور مثال ہے،انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے23تربیتی ادارے ختم کرنا قابل برداشت نہیں ہے، سردار حسین بابک نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے،آبادی میں ہونے والے اضافے کی شرح کو سامنے رکھتے ہوئے اصلاحات کی ضرورت ہے،تعلیمی اداروں کا قیام اور ان میں بنیادی تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور اساتذہ کی تربیت فروغ تعلیم کا لازمی جزو ہے، انہوں نے کہا کہ ہائی و ہائیر سکنڈری سکولوں سے سیاسی بنیادوں پر تبادلے روز کا معمول بن چکے ہیں جبکہ سائنس ٹیچرز اور سبجیکٹ سپیشلسٹ دھڑا دھڑ تبدیل کئے جا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ حکومت وضاحت کرے کہ 1500مکتب سکول پہلے سے بند کر کے بجٹ میں کمی کر دی گئی اور اب سالانہ ترقیاتی پروگرام سے آٹھ سو سے زائد سکولوں کی تعمیر کو نکال دیا گیا،انہوں نے کہا کہ تعلیم کے خلاف ہونے والی سازشوں پر عوام ان حکمرانوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے،سردار بابک نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور میں نامساعد حالات کے باوجود تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے حقوق کا تحفظ کیا اور انہیں جائز مقام دلانے کیلئے مختلف پروگرام لائے گئے،انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی عملی کارکردگی سے ثابت کیا کہ تعلیم اے این پی کی ترجیحات میں شامل ہے۔