پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے 25 ملین ڈالر کے عوض پختونوں کا سودا کرنے کا الزام عائد کرنے پر صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کوقانونی نوٹس بھیج دیا ہے، جس میں 14دنوں کے اندر معافی نہ مانگنے کی صورت میں 10 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے اور ہتک عزت مقدمے کے سلسلے میں عدالتی کارروائی شروع کرنے کا کہا گیا ہے،سینیئر قانون دان عبدالطیف آفریدی ایڈوکیٹ کے توسط سے صوبائی وزیراطلاعات شوکت علی یوسفزئی کو ارسال کردہ قانونی نوٹس میں ان سے اسفندیار ولی خان پر 25 ملین ڈالرز کے عوض پختونوں کا سودا کرنے کے الزام کی وضاحت مانگی گئی ہے، نوٹس میں مختلف اخبارات کا حوالہ دیا گیا ہے،نوٹس کے متن میں کہا گیا ہے کہ اسفند یار ولی خان، عبدالولی خان کے صاحبزادے اور عبدالغفار خان (باچاخان) کے پوتے، سابق پارلیمنٹرین ہیں، مذکورہ الفاظ سے اسفندیار ولی خان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا ہے، لیگل نوٹس میں صوبائی وزیر اطلاعات سے14 دنوں میں معذرت کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے بصورت دیگر 10 کروڑ ہرجانہ ادا کرنا ہوگا، قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ14 دنوں میں معذرت نہ کرنے کی صورت میں ہتک عزت کا دعوی عدالت میں دائر کرتے ہوئے عدالتی کاروائی شروع کردی جائے گی۔