پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے سوات میں اے این پی کے سینئر رہنما عبداللہ یوسفزئی کے بھائی اور بیٹے پر دہشت گردوں کی فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی اداروں اور حکومت کی ناکامی قرار دیا ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عبداللہ یوسفزئی کے بھائی ان کے ہم شکل ہونے کی وجہ سے غلط فہمی کی بنیاد پر ٹارگٹ بن گئے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد دراصل عبداللہ یوسفزئی کو ہی مارنا چاہتے تھے،انہوں نے کہا کہ اے این پی کو گھٹنے ٹیکنے کیلئے نشانہ بنایا جا رہا ہے،باجوڑ، پشاور کے بعد سوات میں دہشت گردوں کے ذریعے پارٹی کو دیوار سے لگانے کی مذموم کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن ہم ڈرنے اور جھکنے والے نہیں، قوم اور دھرتی پر امن کیلئے دہشت گردوں کے سامنے ڈٹے رہیں گے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ سوات میں حملے کے بعد مجروحین کے گھر پر بھی فائرنگ کر کے نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، انہوں نے کہا کہ اے این پی کو ٹارگٹ کرنے کے واقعات تسلسل سے جاری ہیں جبکہ ریاست اور حکومت تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں،انہوں نے کہا کہ حکومت باقاعدہ پلاننگ کے تحت اے این پی کو ٹارگٹ کرا رہی ہے،پی ٹی آئی سمیت کسی جماعت کو دہشت گردوں سے کوئی خطرہ نہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد مخصوص ایجنڈے پر صرف اے این پی کے خلاف مصروف عمل ہیں،وزیر اعلیٰ نے اپنے حلقے میں اے این پی رہنماؤں سے سیکورٹی واپس لی اور انہیں دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا، نازک وقت میں ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشت گردوں اورسہولت کاروں کے خلاف فوری ایکشن لے کر اے این پی کے رہنماوں کو تحفظ فراہم کیا جائے، انہوں نے کہا کہ دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ دہشت گردی ختم نہیں ہوئی اور یہ دہشت گردی صرف اے این پی کیلئے ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت اور ریاست ہمیں اپنی حفاظت خود کرنے پر مجبور کر رہی ہے اگر ایسا ہوا تو حکومت کیلئے ناقابل برداشت ہو جائے گا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت قوم کے سامنے اپنی ناکامی کا اعتراف کرلے تو ہم اپنی حفاظت کیلئے خود میدان میں نکل آئیں گے۔