پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی فیکٹریوں کو سرکاری خزانے سے فنڈز دینے والے ہی پختونوں کے قاتل ہیں، مستقبل میں کوئی بھی کارکن شہید کیا گیا تو قتل کی ایف آئی آر،وزیر اعلیٰ، آئی جی پولیس اور متعلقہ افسران کے خلاف درج کرائی جائے گی، سرتاج خان سمیت تمام شہداء کا حساب لیں گے، حکومت کو دس روز کی ڈیڈ لائن دیتے ہیں قاتل گرفتار نہ ہوئے تو 12جولائی کو دوبارہ اسمبلی کے سامنے احتجاج کریں گے اور اس سلسلے میں مزید تیزی لائی جائے گی، حکومت دہشت گردوں کی ساتھی ہے اور اے این پی کے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ میں حکمران ملوث ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں صوبائی اسمبلی کے سامنے اے این پی سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر سرتاج خان کے بہیمانہ قتل کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا، ایمل ولی خان نے اپنے خطاب میں سرتاج خان کی خدمات اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ مارنے والے یاد رکھیں جب تک اے این پی کا ایک کارکن بھی زندہ ہے باچا خان کی سوچ و فکر کو ختم نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے کہا کہ تشدد کو کاروبار بنانے والے گزشتہ109سال سے ہمارا گلہ گھونٹنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں لیکن ہماری آواز کو کوئی نہیں دبا سکا،انہوں نے کہا کہ بابڑہ کے میدان سے قصہ خوانی بازار کے واقعات تک ہمیشہ پختونوں کو نشانے پر رکھا گیا اور موجودہ دور میں بھی ریاست اور حکومت پختونوں کے خون بہا میں مصروف ہیں،انہوں نے کہا کہ موجودہ کٹھ پتلی حکومت خود طالبانائزیشن کی پیداوار ہے جبکہ2013میں اے این پی کے لوگوں کو مار کر حکیم اللہ محسود نے پی ٹی آئی کی حکومت کو اقتدار حوالے کیا،انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے اختتام پر طالبان کی فیکٹریوں کو کروڑوں روپے کے فنڈز دے کر خریدا گیا جس کی وجہ سے امن و امان صرف پی ٹی آئی کیلئے ہے جبکہ اے این پی کو ٹارگٹ کر کے راستے سے ہٹایا جا رہا ہے، ایمل ولی خان نے سرتاج خان کے اہل خانہ کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ سانحے کی تحقیقات سی ٹی ڈی کے ذریعے کرائی جائے،انہوں نے کہا کہ آج دہشت گرد اور جہادی تنظیمیں سرعام شہر میں گشت کر رہی ہیں،لیکن انہیں نکیل ڈالنے والا کوئی نہیں ہے، ملک میں اصل حکومت اسٹیبلشمنٹ کی ہے اور عمران کٹھ پتلی کے طور پر ان کے اشاروں پر ناچ رہا ہے،انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام ادارے مفلوج ہو چکے ہیں اور میڈیا کو یرغمال بنا لیا گیا ہے، ایمل ولی خان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سابق صدر مملکت کے انٹرویو کو نشر ہونے سے روکنے والوں نے پختونوں کے قاتل احسان اللہ احسان کا انٹرویو چلایا، انہوں نے کہا کہ قوم حقیقت سے آگاہ ہے کہ ملک چلانے والی قوتیں کون ہیں جو ملک کو تباہی کی جانب دھکیل رہی ہیں،انہوں نے کہا کہ دنیا جان لے کہ طالبان کا ایک سرنڈر کرنے والا کمانڈر آج حکومتی وزیر ہے،دہشت گردوں کو سپورٹ کرنے والے اے این پی کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں،انہوں نے کہا کہ اے این پی اب مزید خاموش تماشائی نہیں بنے گی اور اپنے تمام شہداء کا حساب لے کر رہیں گے۔