پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے صوبہ بھر میں اے این پی پر ٹارگٹ کلنگ واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ریاستی اداروں اور صوبائی حکومت کی ناکامی قرار دیا ہے،اپنے ایک بیان میں ا نہوں نے کہا کہ پشاور میں سرتاج خان کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد سوات میں پارٹی کے سینئر رہنما عبداللہ یوسفزئی کے بھائی اور بیٹے سمیت تین افراد پر دہشت گرد حملہ اے این پی کے خلاف مذموم کاروائیوں کا تسلسل ہے،اے این پی کو دیوار سے لگانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں تاہم باچا خان کے سپاہی میدان خالی نہیں چھوڑیں گے، انہوں نے کہا کہ ہر بار الیکشن سے قبل اے این پی کو دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ڈال کر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاتا ہے لیکن ہم ڈرنے اور جھکنے والے نہیں ہیں،انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے اور حکومت تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں،نازک صورتحال کا ادراک نہ کیا گیا تو آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے، دہشت گردوں کو نکیل ڈالنے کی بجائے انہیں اے این پی کو نشانہ بنانے کا ٹاسک حوالہ کر دیا گیاہے، باجوڑ، پشاور اور سوات کے واقعات اے این پی کو میدان چھوڑنے کیلئے پیغامات ہیں،انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی جانب سے دہشت گردی خاتمے کے اعلانات ان کی اپنی جماعت کیلئے ہیں حقیقت میں دہشت گردی ختم نہیں ہوئی اور مخصوص ایجنڈے کے تحت اے این پی کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ اے این پی گزشتہ چار سال مطالبہ دہراتی آئی ہے کہ دہشت گردی کے ناسور سے قوم کو بچانے کیلئے اے پی ایس کے بعد سامنے آنے والی 20نکاتی متفقہ دستاویز پر من و عن عمل کیا جائے اور اس سلسلے میں مصلحت سے کام نہ لیا جائے،انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا تاہم بدقسمتی سے مرکزی و صوبائی حکومتوں نے اپنے مفادات کی خاطر اس پر سمجھوتہ کیااور اس کے برعکس صرف اے این پی کو نشانے پر رکھ لیا گیا، انہوں نے کہا کہ حالیہ پے در پے ہونے والے واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی راہ میں بڑی رکاوٹ اے این پی ہے،ایمل و لی خان نے کہا کہ اے این پی سرتاج خان کی شہادت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرے گی اور اگر قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک نہ پہنچایا گیا تو اے این پی راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہو گی۔انہوں نے کہا کہ اب مزید جنازے اٹھانے کی بجائے اپنے شہیدوں کے خون کا حساب لیں گے۔