سلیکٹڈ وزیر اعظم کا باب بند ہونے والا ہے، اپوزیشن پرملک چھوڑنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
متحدہ اپوزیشن اسفندیار ولی خان کی پیش کردہ تجاویز پر متفق ہے،25جولائی کو یوم سیاہ ہوگا۔
ملک کا کوئی بھی ادارہ آزاد نہیں، نیب سر سے پاؤں تک حکومت زدہ ہے۔
مثالی پولیس میں سیاسی مداخلت عروج پر ہے، اداروں کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
قبائلی الیکشن سیکورٹی اہلکاروں کی پولنگ سٹیشنوں کے اندر موجودگی کے اعلان کے ساتھ ہی متنازعہ ہو گئے تھے۔
عمرزئی واقعے میں ڈی پی او ملوث تھا۔سابق آئی جی ظفر اللہ خان کی رہائشگاہ پر میڈیا سے بات چیت

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ ہے کہ ریاست پاکستان اور اسٹیبلشمنٹ جو کردار ترتیب دیتی ہے انہیں جلد ختم بھی کر دیتی ہے، کپتان کا باب بھی جلد بند ہونے والا ہے، چارسدہ میں سابق آئی جی خیبر پختونخوا ظفر اللہ خان کی رہائش گاہ پر مصالحتی جرگہ اور ناراضگی ختم کر کے انہیں منانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ اپوزیشن پر ملک چھوڑنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور انکار کی صورت میں گرفتاریاں کی جا رہی ہیں، 25جولائی کو یوم سیاہ کے حوالے سے متحدہ اپوزیشن متفق ہے اور اس حوالے سے اپوزیشن جن تجاویز پر عمل درآمد کررہی ہے وہ اسفندیار ولی خان نے اے پی سی میں پیش کی تھیں، ایمل ولی خان نے کہا کہ 25 جولائی کو رنگ روڈ موٹر وے چوک پشاور پر اپوزیشن جماعتوں کا احتجاجی جلسہ عام ہوگا جس سے حکومت کی کمزور دیواریں ہلنا شروع ہو جائیں گی،انہوں نے کہا کہ ملک کا کوئی بھی ادارہ آزاد نہیں،سب اپنے دائرہ اختیار سے آگے بڑھ کر حکومتی آلہ کار بنے ہوئے ہیں، نیب سر سے پاؤں تک حکومت زدہ ہے اور چئیرمن نیب ریاستی مشینری کا مہرہ بنے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے منہ پر تالے لگانے کی ڈیوٹی چیئرمین نیب کی ذمہ داری ہے لیکن خود ان پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کیوں نہیں کرائی گئی؟ جج سکینڈل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی ویڈیو فرانزک ٹیسٹ کے بعد منظر عام پر لائی گئی اس کے بعد ایک اور ویڈیو سامنے آرہی ہے جس میں جج شریف خاندان سے پیسوں اور مراعات کی ڈیمانڈ کررہا ہے، انہوں نے کہا کہ ملک میں احتساب منشیات تک پہنچ چکا ہے رانا ثنا اللہ پر15کلو منشیات کا الزام لگایا جا رہا ہے جو 10کلو وزن نہیں اٹھا سکتے،ایمل خان نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم ایک سال سے صرف الزام الزام کھیل رہا ہے جبکہ حکومت کی کوئی کارکردگی سامنے نہیں آئی، اس کے برعکس شدید مہنگائی کا طوفان کھڑا کر کے عوام کو زندہ درگور کر دیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ ملک کا ہر ادارہ سیاسی ہو چکا ہے،مثالی پولیس میں سیاسی مداخلت عروج پر ہے اور سیاسی مخالفین کے خلاف تمام اداروں کو استعمال کیا جا رہا ہے، صوبائی صدر نے کہا کہ عمرزئی واقعے میں ہم نے مثبر کردار ادا کیا جس کی پاداش میں پولیس ہمارے کارکنوں کو ہراساں کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ آئی جی خیبر پختونخوا یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ واقعے میں ڈی پی او چارسدہ ملوث ہے۔قبائلی اضلاع انتخابات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم شدید تحفظات کے باوجود قبائلی الیکشن میں حصہ لیں رہے ہیں، سیکورٹی اہلکاروں کی پولنگ سٹیشنوں کے اندر موجودگی کے فیصلے نے الیکشن کو پہلے سے متنازعہ بنا دیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اس اقدام سے فوج کو بطور ادارہ متنازعہ نہ بنایا جائے، انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کہا کہ قبائلی اضلاع میں حکومتی امیدواروں کی انتخابی مہم اہلکار چلا رہے ہیں،اس بار ہارنے والے امیدوار سیدھا فوجی اہلکاروں پر الزام لگائے گا۔