پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کی طرف سے بیواؤں اور مستحقین کے سامان کو اقربا پروری کی نذر ہونے سے بچانے کیلئے عدالت سے رجوع کر لیا اور اے این پی کے سینئر رہنما لطیف لالہ ایڈوکیٹ کی وساطت سے صوبائی حکومت کے خلاف رٹ دائر کر دی، عدالت نے پہلے پیشی پر سامان کی تقسیم کو روکتے ہوئے رٹ پر حکم امتناعی جاری کر دیا ، ثمر ہارون بلور نے اس موقع پر پارٹی کارکنوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے جس نئے پاکستان کا دعوی کیا تھا اس میں صرف چہیتوں کو نوازنے کی پالیسی رائج ہے جبکہ بیواؤں ،یتیموں اور مستحقین کے مال پر ڈاکہ ڈال کر اسے اقرباپروری کی نذر کرنا پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت سے عوام دوستی کی توقع رکھنا عبث ہے ، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پی کے78کے عوام کے حقوق کیلئے آج مجھے عدلیہ سے رجوع کرنا پڑا اور کرپشن کے خاتمے کے دعویداروں نے پشاور سے پہلی منتخب خاتون رکن اسمبلی کے طور پر مجھے امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا ، ثمر بلور نے کہا کہ عوام کی دعائیں میرے ساتھ ہیں اور حلقے کے عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھاؤں گی، انہوں نے کہا کہ حکومت 6ماہ کے قلیل عرصہ میں ایکسپوز ہو چکی ہے اور کچھ بھی ڈیلیور کرنے میں ناکامی کے بعد پی کے78کے عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔