پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اے این پی اور جمیعت ایک دریا کے دو کنارے ہیں جو کبھی ساتھ مل نہیں سکتے تاہم اگر ہم رک گئے تو سسٹم بھی رک جائے گا، آزادی کی جنگ میں ساتھ چلنے والے جمہوریت کی بقاء اور بالادستی کی جنگ بھی مل کر لڑ رہے ہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوابی میں شیخ الحدیث مولانا حمد اللہ مرحوم ڈاگئی کی وفات پر ان کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کے موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کیا، انہوں نے پسماندگان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مولانا مرحوم کی مغفرت کیلئے دعا کی اور کہا کہ مولانا حمد اللہ ڈاگئی کی وفات ان کے خاندان ، ہزاروں پیروکاروں کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے اور اے این پی ان کے غم میں برابر کی شریک ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ شیخ الحدیث مولانا حمد اللہ نے زندگی دین کیلئے وقف کئے رکھی اور پاکستان سمیت مختلف ممالک میں اسلام کی ترویج کیلئے نا قابل فراموش خدمات انجام دیں،انہوں نے کہا کہ مولانا مرحوم نے درس و تدریس کے ذریعے انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا اور اس حوالے سے ہم میں یہ قدر مشترک ہے کیونکہ ہم باچا خان کے پیروکار ہیں اور انسانیت کی خدمت کو ہی عبادت سمجھتے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ جمیعت علمائے ہند اور خدائی خدمتگاروں نے آزادی کی جنگ مل کر لڑی تھی جبکہ آج جمہوریت کو درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے اتحاد و اتفاق سے میدان میں ہیں،جمیعت علمائے اسلام اور اے این پی رشتہ بہت پرانا ہے ،علمائے دیوبند سے ہوتے ہوئے یہ رشتہ ولی خان اور مولانا مفتی محمود تک پہنچا اور آج میدان عمل میں غیر جمہوری قوتوں کے خلاف مولانا فضل الرحمان اور اسفندیار ولی خان کھڑے ہیں، انہوں نے کہا کہ خطے کا امن وقت کی اہم ضرورت ہے اور دیرپا و پائیدار امن کے قیام کیلئے دونوں جماعتوں کو مل کر جدوجہد کرنا ہو گی کیونکہ امن پر ہم سب متفق ہیں اور تشدد کا دور تھا تو ایک طرف اے این پی ٹارگٹ ہو رہی تھی اور دوسری جانب مولانا فضل الرحمان پر بھی خود کش دھماکے ہو رہے تھے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پختونوں کو اپنے مسائل و مشکلات کا ادراک کرنا ہو گا اور مصائب سے نکلنے کیلئے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ آج موقع ہے کہ پختون قیادت خطے کے تمام ممالک سے افغانستان میں امن عمل کیلئے درخواست کرے کہ چین روس ہندوستان پاکستان سمیت تمام سٹیک ہولڈرز صدق دل سے اپنی کاوشیں جاری رکھیں اور اس عمل میں افغان حکومت کی شمولیت پر زور دیں۔