دقسمتی سے ہم ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں 444افراد کے قاتل کو سرکاری پروٹو کول دیا جاتا ہے۔

گاڑی میں اگر دہشت گرد ہوتے تو سی ٹی ڈی والوں میں سے کوئی زندہ نہ بچتا۔

کوئی ادارہ آئین و قانون سے بالاتر نہیں اور کسی کو عام شہریوں پر گولیاں چلانے کا اختیار نہیں۔

وزیرستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ،خیسور جیسے واقعات ناقابل برداشت ہیں۔

ملک کے فیصلہ ساز پاکستان کو تباہی کی طرف لے جانے کی بجائے اپنی سمت درست کر لیں ۔

افغانستان حکومت کی شرکت کے بغیر مذاکرات کی کامیابی کسی صورت ممکن نہیں۔اسلام ؤباد میں باچا خان ،ولی خان برسی تقریب سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی کرپٹ پارٹی پی ٹی آئی ہے اور ملک کا تمام کرپت مافیا خود کو بچانے کیلئے عمران کی چھتری تلے اکٹھا ہو چکا ہے، بدقسمتی سے ہم ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں 444افراد کے قاتل کو سرکاری پروٹو کول دیا جاتا ہے ، راؤ انوار کو پھانسی دی گئی ہوتی تو ساہیوال کا خاندان بچ سکتا تھا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں باچا خان اور ولی خان کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر پارٹی رہنماؤن نے کثیر تعداد میں شرکت کی ، میاں افتخار حسین نے باچا خان اور ولی خان کی تاریخی قربانیوں پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ باچا خان کے کردار اور گفتار نے پختونوں پر اثر کیا اور باچا خان نے قوم کو غلامی سے آزاد کرانے کیلئے جدوجہد کی اور آزادی کیلئے ضرورتِ علم کو محسوس کرتے ہوئے بے شمار سکول قائم کئے ،اور قلم کے فلسفے کے ذریعے انگریز کو نکال کر قوم کو آزادی دلائی، انہوں نے کہا کہ آج تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ فخر افغان باچا خان اور ولی خان بابا کی فکر ہی دراصل عدم تشدد، ملک دوستی اور عوام دوستی پر مبنی تھی اور ان کی سوچ کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی، انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا کی عدم تشدد اور امن کے حوالے سے سوچ و فکر لوگوں میں شعور پیدار کر رہی ہے اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان نے اپنے والد کے مشن کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے سماجی انصاف کیلئے کوششیں جاری رکھیں، انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی بقا کیلئے خان عبدالولی خان کا کردار تاریخ کا انمٹ باب ہے ۔،انہوں نے کہا کہ ولی خان جمہوریت کے حقیقی علمبردار تھے اور اگر جمہوریت سے خان عبدالولی خان کا نام نکال دیا جائے تو ملک میں کچھ بھی باقی نہیں رہتادرحقیقت پاکستان کا آئین ہی ولی خان کی بدولت ہے، انہوں نے ساہیوال واقعے کی ایک بار پھر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قوم سے بار بار جھوٹ بولا جا رہا ہے ،گاڑی میں اگر دہشت گرد ہوتے تو سی ٹی ڈی والوں میں سے کوئی زندہ نہ بچتا، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک راؤ انوار پورے ملک کیلئے چیلنج بن گیا ہے اور کسی ادارے میں جرات نہیں کہ اسے سزا دے سکے، انہوں نے کہا کہ کوئی ادارہ آئین و قانون سے بالاتر نہیں اور کسی کو عام شہریوں پر گولیاں چلانے کا اختیار نہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ خیسور میں جس گھر سے دو بالغ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے وہاں مقیم معصوم بچے ، اس کی والدہ ،بہن اور بھابھی کی موجودگی میں سیکورٹی اہلکاروں کا گھر میں داخل ہونا کیا معنی رکھتا ہے ؟ میاں افتخار حسین نے کہا کہ اس بار معاشرتی مجبوریوں سے بے نیاز ایک معصوم بچے حالات سے پردہ اٹھا دیا تاہم اس سے قبل بھی کئی ایسے واقعات ہوئے ہونگے جن پر گرد ڈال کر خاموشی اختیار کی جاتی رہی ، انہوں نے کہا کہ پختون ظلم زیادتی،یہاں تک کہ پھانسی اور موت برداشت کر سکتا ہے لیکن عزت کی پامالی اور بے عزتی برداشت نہیں کر سکتا، انہوں نے کہا کہ وزیرستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی لوگوں کا ناحق خون بہایا گیا ،لیکن اس قسم کے واقعات اب ناقابل برداشت ہیں ،سیکورٹی ایجنسیوں کو اس کا نوٹس لے کر ازالہ کرنا چاہئے،انہوں نے خبردار کیا کہ ملک کے فیصلہ ساز اپنی سمت درست کر لیں کیونکہ ان کے فیصلے ملک کو تباہی کی طرف لے کر جا رہے ہیں، افغان امن مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے دعا گو ہیں کیونکہ چالیس سال سے خون بھی ہمارا ہی بہایا جا رہا ہے، میاں افتخار حسین نے اس امر پر تعجب کا اظہار کیا کہ افغانساتن میں امن کے لئے مذاکراتی عمل سے افغان حکومت کو ہی باہر کر دیا گیا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان حکومت کی شرکت کے بغیر مذاکرات کی کامیابی کسی صورت ممکن نہیں۔