پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ بیرونی دنیا سے قرضے مانگ کر خزانہ نہیں بھرا جا سکتا ،حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے ملکی قرضے آسمان کو چھونے لگے ہیں جبکہ پاکستانی روپیہ زمین بوس ہو گیا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بنوں میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام ہفتہ باچا خان اور ولی خان کے سلسلے میں برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین بھی موجود تھے، میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے کہا کہ باچا خان نے امن کی خاطر قربانی دی اور ہمیشہ تشدد کے خاتمے، صوبائی خود مختاری اور سماجی انصاف کیلئے جدوجہد کرتے رہے، انہوں نے کہا کہ آج بد قسمتی سے ملک میں جمہوریت خطرے میں ہے اور اے این پی کی حتی الوسع کوشش ہے کہ ملک میں جمہوریت ڈی ریل نہ ہو ،، انہوں نے کہا کہ باچا خان بابانے پختونوں کو ایک ایسی جِلا بخشی کہ وہ اتحاد و اتفاق کی مثال بنے اور یہی وجہ تھی کہ انتہائی کم عرصہ میں ان کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا،انہوں نے کہا کہ خان عبدالولی خان نے باچا خان بابا کی سیاست کو تسلسل دیا اور جمہوریت کیلئے ان کی کاوشیں اور قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایوب خان جیسے ڈکٹیٹر کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کو امیدوار نامزد کیا تھا، ولی خان جمہوریت کے علمبردار تھے اور اگر جمہوریت سے خان عبدالولی خان کا نام نکال دیا جائے تو ملک میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا، ملک کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیسور کے واقعے پر خدشات و تحفظات میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت اس حوالے سے مکمل خاموش ہے، انہوں نے کہا کہ واقعے کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے ملوث عناصر کو سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی اس قسم کی گھناؤنی حرکت نہ کر سکے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ساہیوال کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے تاہم جس طرح میڈیا پر اسے کور کیا گیا خیسور واقعے پر وہ رویہ نہیں اپنایا گیا،انہوں نے کہا کہ ملک میں کٹھ پتلیوں کی حکومت ہے ،پنجاب میں وزیر اعلیٰ کی صورت میں طوطا بھرتی کیا گیا ہے جو عمران کے اشارے کے بغیر بول بھی نہیں سکتا اسی طرح خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ صرف آقا کے کہنے پر بولتے ہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت مکمل ناکام ہو چکی ہے کیونکہ یہ عوام کی منتخب حکومت نہیں ہے ، عوام ذہنی طور پر تیار ہیں موجودہ حکومتین ایک سال سے زیادہ چلتی دکھائی نہیں دے رہیں، انہوں نے کہا کہ عمران خان کو صرف اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کا ٹاسک دے کر ایوان تک پہنچا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ عمران خان صرف ریت کی بوری ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر ملک کی تباہی کا سامان لے کر آیا ہے،انہوں نے کہاکہ ملک پر حکمرانی کرنے والوں کو سیاست سیکھنی پڑے گی،افغانستان میں امن مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان عمل امن میں پاکستان کے مثبت کردار پر مشکور ہیں البتہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ جس ملک کے امن کی بات کی جا رہی ہے وہ ان مذاکرات میں شامل ہی نہیں جب اصل فریق بات چیت میں نہ ہو تو مذاکرات کامیاب کیسے ہو سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کی شمولیت کے بغیر مذاکرات کا مستقبل تاریک ہو گا۔