پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات ہوئے تو پی ٹی آئی کا نام ونشان بھی باقی نہیں رہے گا، 25جولائی کو ملنے والی اکثریت تحریک انصاف کی نہیں بلکہ خلائی مخلوق کی تھی، خیسور شریف کے واقعے کو دباؤ ڈال کر سامنے آنے سے روکا جا رہا ہے،اور ملک میں نقیب اللہ،طاہر داوڑ اور ساہیوال جیسے واقعات نے بہت سے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرک پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ ساہیوال کا واقعہ انتہائی دردناک ہے بے گناہ شہریوں کو مار کر بعد میں انہیں دہشتگرد قرار دے دیا جاتا ہے ، انہوں نے کہا کہ دیکھنا یہ چاہئے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے جاری اس قسم کے واقعات کا آرڈر جاری کون کر رہا ہے، ، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک راؤ انوار پورے ملک کیلئے چیلنج بن گیا ہے اور کسی ادارے میں جرات نہیں کہ اسے سزا دے سکے، انہوں نے کہا کہ نقیب اللہ کا واقعہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لیکن راؤ انوار کے خلاف چیف جسٹس کا سوموٹو بھی کام نہ آیا ، اسی طرح طاہر داوڑ کو اسلام ؤباد سے افغانستان منتقل کر کے شہید کر دیا گیا، کوئی ادارہ آئین و قانون سے بالاتر نہیں اور کسی کو عام شہریوں پر گولیاں چلانے کا اختیار نہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ خیسور میں جس گھر سے دو بالغ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے وہاں مقیم معصوم بچے ، اس کی والدہ ،بہن اور بھابھی کی موجودگی میں سیکورٹی اہلکاروں کا گھر میں داخل ہونا کیا معنی رکھتا ہے ؟ میاں افتخار حسین نے کہا کہ اس بار معاشرتی مجبوریوں سے بے نیاز ایک معصوم بچے حالات سے پردہ اٹھا دیا تاہم اس سے قبل بھی کئی ایسے واقعات ہوئے ہونگے جن پر گرد ڈال کر خاموشی اختیار کی جاتی رہی ، انہوں نے کہا کہ پختون ظلم زیادتی،یہاں تک کہ پھانسی اور موت برداشت کر سکتا ہے لیکن عزت کی پامالی اور بے عزتی برداشت نہیں کر سکتا،انہوں نے کہا کہ پورے ملک کے چور اپنی کرپشن بچانے کیلئے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے جنہیں بنی گالہ میں ڈرائی کلین کر کے حکومت میں شامل کر لیا گیا،انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اٹھارویں ترمیم ختم کرنے کیلئے لایا گیا لیکن ان کی حکومت خود بیساکھیوں پر کھڑی ہے جس کی وجہ سے اس مذموم مقصد میں کسی کو کامیابی نہیں ہوئی ، انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم صوبوں کیلئے معاشی انقلاب ہے اور اے این پی کسی صورت صوبائی خود مختاری میں مداخلت برداشت نہیں کرے گی،انہوں نے کہا کہ عمران سٹیبلشمنٹ کی شہ پر شیشے کے محل میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر پھینک رہا ہے، سندھ حکومت گرانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ، مسلط وزیر اعظم نے دنیا بھر میں کشکول گھما کر پاکستان کا تشخص پامال کر دیا ہے، مہنگائی کے طوفان نے عوام کا جینا مشکل کر دیا ہے،اسد عمر نے جھوٹ بول کر عوام کو دھوکہ دیا،انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے ایک رکن نے پختونوں کے خلاف تقریر کر کے ذہنی پستی کا ثبوت دیا ہے ، پختون نہ ہوتے تو آج یہ ملک بھی نہ ہوتا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ عامر لیاقت پر پارلیمنٹ اور سرکاری اجلاسوں کے دروازے بند کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہم عدم تشدد پر یقین رکھتے ہیں ورنہ عامر لیاقت جیسے لوگوں کو لگام دینا ہم جانتے ہیں،
افغان امن مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے دعا گو ہیں کیونکہ چالیس سال سے خون بھی ہمارا ہی بہایا جا رہا ہے، میاں افتخار حسین نے اس امر پر تعجب کا اظہار کیا کہ افغانستان میں امن کے لئے مذاکراتی عمل سے افغان حکومت کو ہی باہر کر دیا گیا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان حکومت کی شرکت کے بغیر مذاکرات کی کامیابی کسی صورت ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ آج تک خطے میں وہ پائیدار امن قائم نہیں ہو سکا جس کی موجودہ وقت میں ضرورت تھی ، انہوں نے کہا کہ امریکہ کی افغانستان سے مرحلہ وار واپسی کا فیصلہ درست ہے ۔