پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ عمران خان استیبلشمنٹ کا شو پیس ہے جسے صرف دکھاوے کیلئے کرسی پر بٹایا گیا ہے اور حکومت مقتدر قوتوں کے پاس ہے، باچا خان کا اصل مشن امن کا قیام اور تشدد کا خاتمہ تھا ، موجودہ دور میں پاکستان مزید مشکلات میں گھر چکا ہے ، اٹھارویں ترمیم اور آئین میں ترامیم کے بعد مارشل لاء لگانا مشکل ہو گیا تھا جس کیلئے کٹھ پتلی وزیر اعظم کو اقتدار تک پہنچایا گیا اور ملک میں سول مارشل لاء نافذ کر دیا گیا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور پریس کلب میں باچا خان اور ولی خان کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، اے این پی پنجاب کے صدر منظور احمد ، احسان وائیں اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا، میاں افتخار حسین نے باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے کے حوالے سے تفصیلی تقریر کی اور کہا کہ خطے میں امن کے قیام کیلئے باچا خان نے تاریخی جدوجہد کی تھی ، انہوں نے کہا کہ اس سرزمین کے واحد لیڈر باچا خان تھے جنہوں نے زندگی کے38سال اسیری میں گزار دیئے لیکن اپنے مقصد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے ، انہوں نے کہا کہ پختونوں کو ہر دور میں ظلم و جبر کا نشانہ بنایا گیا تاہم باچا خان کے عدم تشدد کے پیروکار اپنے مشن پر کاربند رہے یہاں تک کہ کئی بار ان پر گولیاں چلائی گئیں جس میں ہزاروں خدائی خدمتگار وں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ تعلیم عام کرنے اور مرد و خواتین کی یکساں تعلیم کیلئے باچا خان نے آواز ااتھائی اور اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے اپنے بیٹوں کے ساتھ بیٹی کو بھی سکول میں داخل کرایا،انہوں نے کہا کہ ولی خان کی جمہوریت کیلئے خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں ، انہوں نے ملک ٹوٹنے سے بچانے کی حد درجہ کوشش کی لیکن اس وقت کے فرعونوں نے اپنی چال چلی جس کی وجہ سے ملک دو لخت ہو گیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ آج ملک میں جو73کا آئین موجود ہے وہ بھی ولی خان کی مرہون منت ہے، ملک کی سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پرانی سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی چالیں سمجھ چکی تھیں جس کی وجہ سے انہیں ایسا لاڈلہ درکار تھا جو کرسی کی خاطر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے،حقیقی عوامی نمائندوں کو دیوار سے لگا کر من پسند لوگوں کو جتوایا گیاجبکہ جو لوگ جیتے انہیں پتہ ہی نہیں کہ انہیں ووٹ دیئے کس نے ہیں،انہوں نے کہا کہ ملک کیلئے اب ایک بڑی پارٹی کی ضرورت ہے،مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی مصنوعی پارٹیاں نہیں وہ ایک طویل جدوجہد کے بعد اس مقام تک پہنچیں اور ملک میں عوامی رائے پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ پنجاب میں مسلم لیگ کی برتری ان کے ہوش اڑا دے گی۔عمران نیازی کو سیاسی قائدین کو گالیاں دینے پر یہ اعزاز ملا البتہ دو تہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے اب وہ اسٹیبلشمنٹ کیلئے بھی فالتو پرزہ ہے جو نہ اسمبلی جا سکتا ہے اور نہ کسی سیاسی رہنما کا سامنا کر سکتا ہے،سٹیبلشمنٹ نے پاکستان کی قیمت پر عمران کو 22کروڑ عوام پر زبردستی مسلط کیا ہے تاکہ اپنی مرضی کی پارلیمنٹ بنائی جا سکے،انہوں نے کہا کہ گزشتہ الیکشن میں فوجی اہلکاروں کی پولنگ سٹیشنوں پر تعیناتی سے فوج بطور ادارہ بدنام ہوئی، انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کو درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے تمام سیاسی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا پڑے گا۔